انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 350 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 350

انوار العلوم جلد ۱۳ 350 افتتاحی تقریر جلسه سالانه ۱۹۳۴ء سے ہر ایک کا دل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے لئے فتح کیا گیا اور کس طرح دنیا کے کناروں تک خدا تعالیٰ نے اس شخص کا نام پہنچایا جسے پہلے دنیا جانتی نہ تھی اور جب جانا تو اس لئے جانا کہ آپ کے نام کو مٹا دے۔آج کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہم احمدیت کو مٹا دیں گے، بعض کہتے ہیں کہ ہم نے احمدیت کو مٹا دیا، بعض اپنے ناموں کے ساتھ فاتح قادیان بھی لکھتے ہیں لیکن ہر بینا آنکھ اور ہر عقلمند انسان اس بات کو دیکھتا اور سمجھتا ہے کہ قادیان کو فتح کرنے والا کوئی پیدا ہی نہیں ہوا اور نہ ہوگا بلکہ قادیان ہی دنیا کو فتح کر رہی ہے۔بھلا اس گوشئہ گمنامی کی بستی کے متعلق جہاں آنے کیلئے یکہ کی سواری بھی میسر نہ آتی تھی، جہاں ہفتہ میں دو دفعہ ڈاک آیا کرتی تھی، کون خیال کرسکتا تھا کہ دنیا کے دور دراز کے گوشوں سے لوگ یہاں آئیں گئے اس لئے نہیں کہ یہاں دنیوی ترقی کا سامان میسر آ سکتا ہے اس لئے بھی نہیں کہ کسی قسم کا کوئی جسمانی فائدہ حاصل ہوسکتا ہے بلکہ اس لئے کہ یہاں آ کر روحانی غذا حاصل کریں گے۔یہاں خدا تعالیٰ کے قرب کے دروازے ان کے لئے کھولے جائیں گے۔اس وقت پنجاب کے بڑے بڑے شہر بھی ایسے نہیں، جہاں ان ممالک اور ان علاقوں کے لوگ آکر اس کثرت سے رہتے ہوں جیسے کہ قادیان میں آتے اور رہتے ہیں۔ایسے ایسے علاقوں اور ممالک کے لوگ قادیان میں آتے ہیں جہاں کے لوگ پنجاب سے واقف نہ تھے۔مدراس کے علاقہ کے لوگ اور مالا بار کے علاقہ کے لوگ جتنی تعداد میں یہاں آتے اور رہتے ہیں، اتنی تعداد میں لا ہور میں بھی نہیں ہوں گے۔اسی طرح سماٹرا اور جاوا کے لوگوں کی یہاں اتنی تعداد ہے جتنی لاہور میں نہ ہو گی۔یہ بات کس طرح پیدا ہوئی ؟ اگر ان الفاظ کے پیچھے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمائے، آسمانی طاقت نہ تھی تو ان باتوں کو کس نے قائم کر دیا۔باوجود دنیا کی مخالفت کے خدا تعالیٰ نے ہی ان پیشگوئیوں کو پورا کیا۔نادان خیال کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے قائم کئے ہوئے سلسلہ کو اپنے منہ کی پھونکوں سے مٹا دیں گے۔گو ظاہری حالات کے لحاظ سے سلسلہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا قائم کردہ ہے اور اب بھی ایسی حالت میں ہے کہ دنیا کی کوئی چھوٹی سے چھوٹی قوم اور چھوٹے سے چھوٹا فرقہ بھی اس سے زیادہ تعدا د رکھتا ہے۔سکھ سب سے قلیل قوم ہیں لیکن ابھی سکھوں کی تعداد بھی احمدیوں سے زیادہ ہے اہلحدیث فرقہ کے مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہے شیعہ فرقہ کے مسلمانوں کی تعداد