انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 345 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 345

345 انوار العلوم جلد ۱۳ حکومت پنجاب اور جماعت احمد یہ حکومت پنجاب کی ان تسلی بخش چٹھیوں کے علاوہ نائب وزیر ہند صاحب نے مولوی عبدالرحیم صاحب درد امام مسجد احمد یہ لنڈن کو جنہیں میں نے اس معاملہ میں حکومت برطانیہ کو توجہ دلانے کے لئے مقرر کیا تھا ایک خط کے ذریعہ اطلاع دی ہے کہ حکومت ہند کی طرف سے انہیں یقین دلایا گیا ہے کہ حکومت پنجاب اور اس کے افسروں نے اس معاملہ میں جو کچھ بھی جو کچھ بھی کیا ہے اُس کے کرتے وقت اُن کے ذہن کے کسی گوشہ میں بھی یہ خیال نہ تھا کہ وہ کوئی ایسا کام کریں جس سے جماعت احمد یہ کے جذبات کو جس کی وفاداری پورے طور پر مسلّم ہے کسی طرح ٹھیس لگے اور انہوں نے درد صاحب کو اس خط میں یہ یقین بھی دلایا ہے کہ حکومت کے اس فعل میں قطعاً کوئی غرض یا نیت نہ تھی کہ جماعت احمد یہ کی کسی قسم کی تحقیر ہو۔ یا اس کے امام کے احترام میں کسی قسم کا فرق آئے ۔ حکومت پنجاب کی ان چٹھیوں اور نائب وزیر ہند صاحب کے اس خط کی بناء پر میں یہ اعلان کرنا چاہتا ہوں کہ میرے خطبات کے اس حصہ کو جو حکومت پنجاب کے فعل کے خلاف احتجاج کے طور پر تھا اب طے شدہ سمجھا جائے ۔ اس اعلان کے ساتھ ہی میں اس امر پر بھی خوشی کا اظہار کرنا چاہتا ہوں کہ ہندوستان اور انگلستان میں بہت سے انگریز افسروں اور سابق گورنروں نے اس موقع پر ہم سے نہایت ہمدردی کا برتاؤ کیا ہے اور بعض نے پوری امداد کا وعدہ کرتے ہوئے اپنے جذبات اور اخلاص کا بڑے زور سے اظہار کیا ہے۔ مندرجہ بالا اعلان سے میری یہ مراد نہیں ہے کہ جن مقامی حکام نے نا واجب کار روائیاں کی ہیں ان کو یا جو اعتراض ہمیں پنجاب کریمنل لاء امنڈ منٹ ایکٹ ۱۹۳۲ء کے دائرہ استعمال پر ہے اس کو بھی طے شدہ سمجھا جائے گا۔ لیکن یہ امور ایسے ہیں جیسا کہ میں اپنے ایک خطبہ میں کہہ چکا ہوں کہ انہیں یا تو پرائیوٹ طور پر حکومت کے ساتھ یا کونسلوں کے ذریعہ سے بھی طے کیا جا سکتا ہے اس لئے ہمیں ان امور کے متعلق خاص نظام کے ماتحت جد و جہد کی ضرورت نہیں ۔ اصل سوال جس کے لئے جماعت کو فکر تھی یہی تھا کہ امام جماعت احمد یہ کو خواہ مخواہ دق کیا جائے اور جماعت کے افسروں یا افراد کے افعال کو اس کی طرف منسوب کر کے اس کے کام میں روک ڈالی جائے اور چونکہ یہ امر صفائی سے طے ہو گیا ہے اس لئے باقی امور کے متعلق جماعت کو سر دست کسی تشویش کی ضرورت نہیں ۔ چونکہ بعض جماعتیں حکومت کے پاس اظہار ناراضی کے ریزولیوشن بھجوا رہی ہیں انہیں بھی ریہ