انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 344 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 344

انوار العلوم جلد ۱۳ 344 حکومت پنجاب اور جماعت احمدیہ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ حکومت پنجاب اور جماعت احمدیہ ہماری جماعت کے جو دوست میرے خطبات سنتے یا پڑھتے رہے ہیں انہیں معلوم ہوگا کہ احرار کے جلسہ کے تعلق میں جو نوٹس گورنمنٹ نے مجھے دیا تھا اُس پر مجھے یہ اعتراض تھا کہ جس سرکلر چھٹی کی بنا پر حکومت نے یہ نوٹس دیا ہے وہ میری طرف سے نہ تھی بلکہ ناظر امور عامہ کی طرف سے تھی اور یہ کہ حکومت کا یہ طریق کہ ناظر کے ایک فعل پر خلیفہ وقت کو نوٹس دے ایسی پیچیدگیاں پیدا کر دتیا ہے کہ آئندہ خلافت کا کام ناممکن ہو جاتا ہے۔نیز جبکہ دوسری کسی جماعت سے حکومت یہ سلوک نہیں کرتی کہ اُس کے افراد کے افعال کو اُن کے رئیس کی طرف منسوب کرے اور اسے ان کا ذمہ وار قرار دے تو جماعت احمدیہ کے بارہ میں اس استثنائی سلوک کے کیا معنی ہیں؟ اس بارے میں حکومت سے تبادلہ خیالات ہوتا رہا ہے جس کی طرف میں نے اپنے خطبات میں اشارہ بھی کیا تھا۔سو اب جماعت کی اطلاع کے لئے شائع کیا جاتا ہے کہ حکومت پنجاب نے اس امر کو تسلیم کر لیا ہے کہ جاری شدہ سرکلر کی ذمہ واری امام جماعت احمدیہ پر عائد نہیں ہوتی اور یہ کہ اگر حکومت کو نوٹس جاری کرنے کے وقت اس بات کا علم ہوتا کہ یہ سرکلر ناظر امور عامہ کی طرف سے جاری کیا گیا ہے تو وہ امام جماعت احمدیہ کو یہ نوٹس نہ دیتی کہ وہ اس سرکلر کو واپس لیں بلکہ وہ اس شخص کو مخاطب کرتی جس کی طرف سے وہ سرکلر جاری ہوا تھا۔حکومت نے اس بات کو بھی تسلیم کیا ہے کہ جو سرکلر جاری کیا گیا تھا وہ حکومت کے نوٹس سے قبل ہی منسوخ کیا جا چکا تھا اور یہ کہ اگر اسے اس منسوخی کا بر وقت علم ہو جاتا تو پھر حکومت کی طرف سے کوئی نوٹس جاری ہی نہ کیا جاتا۔اسی طرح حکومت نے اس امر کا بھی اظہار کیا ہے کہ اس نوٹس سے یہ مراد ہر گز نہیں تھی کہ حکومت کے نزدیک امام جماعت احمدیہ نے سول نافرمانی یا کسی خلاف امن فعل کے ارتکاب کا ارادہ کیا ہے۔