انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 336 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 336

انوار العلوم جلد ۱۳ 336 سردار کھڑک سنگھ اور ان کے ہمراہیوں کو دعوت حق آنا چاہیئے کہ خیرات اپنے گھر سے شروع ہوتی ہے۔ سردار صاحب ! میں اس بارہ میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ آپ نے یہ فقرہ کہنے میں تقویٰ سے کام نہیں لیا۔ اینٹ سے اینٹ بجا نا خدا تعالیٰ کا کام ہے بندوں کا کام نہیں ۔ منہ سے دعویٰ کرنے پر تو کچھ خرچ نہیں ہوتا ۔ اگر تا۔ اگر میں بھی آپ بھی آپ ہی کی طرح جوش میں آ۔ آنے والا ہوتا تو شاید میں ا تو شاید میں بھی آپ کے اس دعوی کو سن کر یہ کہہ دیتا کہ میں بھی آپ کے مقدس مقامات کی اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے فضل سے تقویٰ عطا فرمایا ہے۔ جب میں نے آپ کا یہ دعوئی سنا تو بجائے کوئی ایسا فقرہ کہنے کے مجھے آپ پر رحم آیا اور میں نے کہا کہ میرے اس بھائی کو اگر خدا تعالیٰ کی معرفت نصیب ہوتی تو کبھی یہ ایسا دعویٰ نہ کرتا۔ جس شخص کو اپنی زندگی کے ایک منٹ پر اختیار نہ ہو اُس کا یہ کہنا کہ وہ فلاں جگہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دے گا ایک قابلِ رحم امر نہیں تو اور کیا ہے۔ سردار صاحب ! جب آپ کے گر و صاحب ظاہر ہوئے تھے تو وہ بھی ظاہر حالت میں کمزور تھے اور اُس وقت کے طاقتور لوگ بھی آپ کی طرح یہ کہا کرتے تھے کہ ہم چاہیں تو ان کو یوں نقصان پہنچا دیں، یوں ذلیل کر دیں مگر آپ کو معلوم ہی ہے کہ وہ غریب ماں باپ کا بیٹا کس ط طرح خدا تعالیٰ کی حفاظت میں رات اور دن ترقی کرتا چلا گیا اور اُس کے گھر کی اینٹ سے اینٹ بجانے والوں کے اپنے گھروں کی اینٹ سے اینٹ بج گئی ۔ آپ نے دعویٰ کیا ہے کہ دیکھو مغل ہمارے مقابلہ میں کس طرح تباہ ہو گئے ۔ میں اس امر کو صحیح مان لیتا ہوں مگر پوچھتا ہوں کہ آخر وہ کیوں تباہ ہو گئے کیا سردار کھڑک سنگھ کی بہادری سے یا اللہ تعالیٰ کی مدد سے ۔ اگر آپ کی بہادری سے ایسا ہوا تھا تو انگریزوں کے مقابلہ میں آپ کی تلواریں کیوں ٹوٹ گئی تھیں ۔ یاد رکھ تھیں ۔ یاد رکھیں کہ خدا تعالیٰ کی یہی سنت ہے کہ وہ کبھی کسی قوم کو بڑھاتا ہے کبھی کسی کو ۔ کبھی مغلوں کی تلواروں کے آگے پنجاب کے سور ماؤں کے باپ دادا ۔ پ داداے اور ہندوستان کے راجے بھیڑوں اور بکریوں کی طرح بھاگتے پھرتے تھے۔ پھر وہ وقت آیا کہ مرہٹوں اور سکھوں جیسی چھوٹی چھوٹی قوموں نے ان کے چھکے چھڑا دیئے۔ پھر وہی مرہٹے احمد شاہ ابدالی کے سامنے پیٹھ دکھا کر ایسے بھاگے کہ سینکڑوں میل تک ان کا پتہ نہ تھا اور وہی سکھ انگریزی فوجوں سے اس قدر خائف ہوئے کہ تو ہیں تک چھوڑ کر فرار ہو گئے ۔ پس سوال بہادری کا نہیں، سوال خدا تعالیٰ کی دین کا ہے۔ منہ کے دعوے نجات نہیں دیتے، خدا تعالیٰ کا خوف انسان کو عزت دیتا ہے۔ پس جس جگہ کو خدا تعالیٰ بڑھانا چاہتا ہے اُس کے متعلق ایسے دعوے کر کے جن کا کوئی بھی فائدہ نہیں، اپنی عاقبت نہ بگاڑیں ۔ ہوتا وہی ہے جو خدا تعالیٰ چاہتا ہے اور