انوارالعلوم (جلد 13) — Page 32
۳۲ انوار العلوم جلد ۱۳ قرآن کریم پر ستیارتھ پرکاش کے اعتراضات کی حقیقت کی حقیقت متکلم ہوا اور بندہ مخاطب ۔ چنانچہ انو کا ۲ سکت ۲ کا پہلا منتر یوں ہے۔ میں اندر کے وہ بہادرانہ کام جو اُس نے یعنی میگراج نے پہلے زمانہ میں کئے ہیں بیان کرتا ہوں ۔ اُس نے بادل کو چیرا ، اُس نے مہینہ برسایا، اُس نے ان ندیوں کے واسطے جو پہاڑ سے آتی ہیں راستہ بنایا۔ پھر انو کا ۱۲ سکتا میں یوں لکھا ہے ۔ استمبر اور بھولے دیوتا ۔ اے اگنی ! تیرے قدموں کے کھوج لگاتے ہوئے ہوئے تیرے پیچھے ہو لئے جب کہ تو نے اپنے دھن کو پانی ہی کے نشیب میں اس طرح چُھپا دیا جیسے مویشی کا چور اپنے تھن چھپاتا ہے ۔ اُن کو تیری اس لئے تلاش تھی کہ تجھ سے وہ بھوگ کا دعوی کرتے تھے اور چاہتے تھے کہ تو دیوتاؤں تک اس بھوگ کو پہنچائے ۔ تمام دیوتا جو پوجا کے مستحق ہیں تیرے پاس بیٹھ گئے۔ انو کا ۱۳ سکتا میں یوں لکھا ہے ۔ وو یگ میں جلدی جا کر آؤ ۔ ہم اگنی کی مہما میں منتر پڑھیں جو ہماری ڈور سے سنتا ہے“۔ اسی طرح ساتواں ادھیائے انو کا ۱۵ سکت ۲ میں ہے۔ تیری جو بڑا بلوان ہے بڑی اور سیم و فتحمند روشنی آسمان میں پھیل جاتی ہے۔ اے اگنی ! کمند روسی ہم نے تجھے روشن کیا ہے ہمیں اپنی بے عیب اور رکشا کر نیوالی کلاؤں سے بچا۔ میں نے یہ چند منتر مختلف جگہوں ۔ جگہوں سے اس لئے نقل کرد۔ کر دیتے ہیں کہ تاحق کے متلاشیوں کو معلوم ہو جائے کہ رگوید سارے کا سارا اسی رنگ میں ڈوبا ہوا ہے اور کہ پنڈت دیانند جی کو بقول مسیح علیہ السلام اپنی آنکھ کا شہتیر نظر نہیں آیا اور دوسرے کی آنکھ کے خواہ مخواہ تنکے نکالنے کی فکر میں پڑ گئے۔ قرآن کی ابتدا پس قرآن شریف ضرور تھا کہ بسم اللہ سے شروع ہوتا۔ اس کے بعد ہم یہ ثابت کرتے ہیں کہ ضرور تھا کہ قرآن شریف اسی ریف اسی آیت سے شروع ہوتا اور اس آیت سے شروع ہونا قرآن شریف کیلئے کوئی عیب کی بات نہیں بلکہ اس کی سچائی کا ثبوت ہے۔ جب کوئی کام بھی انسان شروع کرتا ہے تو دوقسم کے اغراض اس کے مدنظر ہوتے ہیں ، نیک یا بد ۔ بعض لوگ بد نیتی سے کام شروع کرتے ہیں اور بعض نیک نیتی سے ۔ اسی طرح بعض اپنی ذاتی اغراض کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے نفس پر یا دوسرے اسباب پر بھروسہ رکھتے