انوارالعلوم (جلد 13) — Page 324
انوار العلوم جلد ۱۳ 324 تحقیق حق کا صحیح طریق ذاتی تجربہ یہ ایک حقیقت ہے کہ کئی بار میں نے ایسی باتیں پہلے سے لوگوں کو بتا ئیں جو اسی طرح پوری ہوئیں۔لطیفہ کے طور پر اس وقت ایک کا ذکر کرتا ہوں۔ہماری جماعت میں ایک مطلوب خاں صاحب ہیں جو فوج میں ڈاکٹر تھے۔وہ عراق میں لڑائی میں شامل تھے ان کے والد ۷۰۔۷۵ سال کے بوڑھے قادیان میں مجھ سے ملنے آئے۔قادیان سے ان کے واپس جانے کے بعد ان کو اطلاع ملی کہ ان کا لڑ کا جنگ میں مارا گیا ہے۔چونکہ میں تھوڑا ہی عرصہ پہلے ان سے مل چکا تھا اور ان کی ضعیف العمری دیکھ چکا تھا اس لئے مجھے بہت صدمہ ہوا اور میرے منہ سے بار بار یہی دعا نکلتی کہ کاش! مطلوب خاں زندہ ہو۔مگر پھر خیال آتا کہ جب گورنمنٹ کی طرف سے موت کی اطلاع آ چکی ہے تو کاش زندہ ہو کے کیا معنی ہو سکتے ہیں۔آخر میں نے خواب میں دیکھا کہ مطلوب خاں صاحب میرے پاس آئے ہیں اور کہتے ہیں کہ میں تین دن دفن رہ کر پھر زندہ ہو گیا ہوں۔میں حیران تھا کہ ہم تو اس دنیا میں مرکر زندہ ہونے کے قائل ہی نہیں مگر یہ رویا اتنا صاف تھا کہ میں سمجھتا تھا یہ خیال نہیں ہو سکتا اور یہ ضرور خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔اس دن کھانے کے وقت میں نے اپنے بھائیوں سے اس کا ذکر کیا اور میرے ایک بھائی نے مطلوب خاں صاحب کے ایک رشتہ دار کو بتایا جس نے اپنے چا کو خط لکھا۔اس نے اطلاع دی کہ یہ صحیح ہے۔مطلوب خاں کا تار آیا ہے کہ گھبراؤ نہیں میں زندہ ہوں۔میں حیران تھا کہ یہ کیا بات ہے مگر معلوم ہوا کہ جس طرح میں نے خواب میں دیکھا تھا، اسی طرح واقعہ پیش آیا۔بات یہ ہوئی کہ عربوں سے انگریزی فوج کی جنگ ہوئی انگریزی فوج کے ساتھ یہ ڈاکٹر تھے۔انہیں عرب گرفتار کر کے لے گئے لیکن کوئی اور ڈاکٹر دوسری فوج سے آیا تھا۔اس کی لاش کی وجہ سے یا کسی اور سبب سے انگریزی افسران کو یہ دھوکا لگا کہ مطلوب خاں مارے گئے ہیں اور انہوں نے ہندوستان اُن کی موت کا تار دے دیا۔عربوں کے ہاں قیدی رکھنے کا تو کوئی انتظام تھا نہیں۔اغلباً وہ انہیں قتل کر دیتے لیکن خدا تعالیٰ نے یہ سامان کیا کہ ایک ہوائی جہار نے اس گاؤں پر گولہ باری کی جس میں یہ قید تھے۔گاؤں کے لوگ بھاگ گئے اور مطلوب خاں کو بھاگنے کا موقع مل گیا اور انہوں نے واپس آکر اپنے عزیزوں کو اپنی سلامتی کا تار دیا۔خواب میں جو مجھے بتایا گیا تھا کہ تین دن ہوئے وہ زندہ ہو گئے۔اس سے مراد ان کی قید سے رہائی تھی۔جو ان کے لئے دوسری زندگی ہی تھی کیونکہ وہاں رہتے تو ضرور مارے جاتے۔اس کے علاوہ میرا سینکڑوں دفعہ کا تجربہ ہے کہ جو خواب دیکھا جاتا ہے وہ پورا ہو جاتا ہے۔میں جب لائل پور کے لئے صبح کو روانہ