انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 323 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 323

انوار العلوم جلد ۱۳ 323 تحقیق حق کا صحیح طریق صحابہ سے جواب دیتے ہیں کہ بے شک ہم لوگ ایسے ہی تھے مگر اللہ تعالیٰ نے ہم پر فضل کیا اور ہم میں ایک نبی مبعوث کیا جس نے ہمیں انسان بنا دیا اور ہمارے اندر اعلیٰ اخلاق پیدا کر دیئے۔کہاں ہیں وہ لوگ جو اعتراض کرتے ہیں کہ مسلمان روپیہ حاصل کرنے کیلئے لڑتے تھے۔غور سے دیکھو! ان کی جرات کتنی ہے۔وہ جواب دیتے ہیں کہ پہلے تم نے حملہ کیا تھا اور اب ہم جب تک ایران کو فتح نہ کر لیں، واپس نہیں جا سکتے۔اس وقت ایران کی سلطنت ایسی ہی تھی جیسے اب انگلستان کی۔بادشاہ نے حکم دیا کہ مٹی کا ایک بورا لایا جائے اور پھر اسے رئیس وفد کے سر پر رکھوا کر کہا کہ جاؤ اب میں تمہیں کچھ نہیں دوں گا۔انہوں نے مٹی کا بورا بلا تامل سر پر اٹھا لیا اور دوڑ کر وہاں سے نکل گئے اور کہا کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ بادشاہ نے ایران کی زمین اپنے ہاتھ سے ہمارے حوالے کر دی ہے۔غور کرو یہ کتنا عظیم الشان تغیر ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان لوگوں کے اندر پیدا کیا۔اللہ تعالیٰ نے ان کی ایسی مدد کی کہ کوئی دشمن ان کے مقابل پر ٹھہر نہیں سکتا تھا۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام بھی يَتْلُوهُ شَاهِدٌ مِنْهُ کے ماتحت تھے۔خدا تعالیٰ نے آپ پر الہام نازل کیا کہ كُلُّ بَرَكَةٍ مِنْ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَبَارَكَ مَنْ عَلَّمَ وَتَعَلَّمَ- ۶۳ ساری برکتیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے وابستہ ہیں۔برکتوں والا ہے استاد اور برکتوں والا ہے شاگر د گویا آپ بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیلئے شَاهِدٌ مِنْهُ تھے۔لیکن اسی طرح آپ کے لئے بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے پاس سے شاہد بھجوائے ہیں۔چنانچہ آپ کی جماعت میں بھی ہزاروں ایسے لوگ ہیں جن سے اللہ تعالیٰ کلام کرتا ہے اور خود مجھ سے ہزاروں مرتبہ اس نے باتیں کی ہیں۔اب میرے سامنے اگر کوئی شخص یہ بات پیش کرے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے باتیں نہیں کرتا تو میں اسے کس طرح مان سکتا ہوں۔ولایت میں جب میں گیا تو وہاں ایک فلسفی ڈاکٹر نے مجھ سے گفتگو کی۔جس میں اس نے کہا کہ الہام وغیرہ کوئی چیز نہیں، سب انسان کے اپنے خیالات کا نام ہے۔میں نے کہا کہ جب میرے کانوں نے اللہ تعالیٰ کی آواز کو سنا ہوتو خشک فلسفیانہ باتوں کا مجھ پر کیا اثر ہو سکتا ہے اور میں کیونکر تسلیم کرسکتا ہوں کہ جو کچھ میں نے سناء محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں سنا۔اس پر اسے تسلیم کرنا پڑا کہ بے شک ایسے انسان پران دلائل کا کچھ اثر نہیں ہوسکتا۔