انوارالعلوم (جلد 13) — Page 322
انوار العلوم جلد ۱۳ 322 تحقیق حق کا صحیح طریق تھا کہ پیچھے سے عیسائی لشکر دھوکا دے کر حملہ آور ہوا اور قریب تھا کہ سارا اسلامی لشکر تباہ ہو جاتا۔حضرت عمر اس وقت مدینہ میں خطبہ پڑھ رہے تھے کہ بے اختیار بول اُٹھے۔يَا سَارِيَةُ الْجَبَلَ - يَا سَارِيَةُ الْجَمَلَ يَا سَارِيَةُ الْجَبَلَ - ٢٠ ساریہ اسلامی فوج کے کمانڈر کا نام تھا۔لوگ حیران تھے کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔مگر آپ نے بتایا کہ میں نے عالم کشف میں ایسا نظارہ دیکھا ہے۔چند یوم بعد ایک مشتر سوار لشکرِ اسلامی سے آیا اور ایک خط لایا جس میں ساریہ نے اپنی پوزیش کا بعینہ وہی نقشہ کھینچا ہوا تھا جو حضرت عمرؓ کو کشف میں دکھائی گئی تھی اور لکھا تھا کہ میں نے یکدم یہ آواز سنی تھی۔يَا سَارِيَةُ الْجَبَلَ جو آپ کی آواز سے مشابہ تھی اور اس سے متنبہ ہوکر میں بچ گیا۔یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے زبر دست نشان ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ ان لوگوں کے اندر الہام کا زبر دست مادہ تھا اور یہ يَتْلُوهُ شَاهِدٌ منسہ کا ایک نظارہ تھا کہ آپ نے چوروں ڈاکوؤں اور فسادی لوگوں کے اندر وہ روح پیدا کر دی کہ اللہ تعالیٰ کی رضاء کے سوا کوئی چیز ان کے مد نظر نہ رہی۔ایک بیوہ عورت خنساء نامی کا ایک مشہور واقعہ ہے کہ ایک جنگ میں ایک دن بہت سے مسلمان مارے گئے۔اس کے چار جوان بیٹے تھے اس نے ان کو بلا یا اور کہا کہ دیکھو میں نے بڑی محنت و مشقت سے تمہاری پرورش کی ہے اور تمہارے آباء کے ننگ و ناموس کی حفاظت کی ہے حالانکہ تمہارے باپ کا مجھ پر کوئی احسان نہ تھا، کوئی جائیداد اس نے تمہاری پرورش کیلئے نہ چھوڑی، زندگی میں وہ جواری تھا اور میں اسے اپنے بھائی سے روپیہ لے کر دیا کرتی تھی پس اگر تم سمجھتے ہو کہ میرا تم پر کوئی حق ہے تو اس کے صلہ میں میں تم سے یہ چاہتی ہوں کہ میدانِ جنگ میں جاؤ پھر یا تو دشمن کو مغلوب کر کے آؤ یا شہید ہو جاؤ۔اے غور کرو! یہ کتنی بڑی قربانی ہے۔وہ عورت بیوہ ہے، پھر بڑھیا ہے اور جانتی ہے کہ اب میرے ہاں کوئی بچہ پیدا ہوناممکن نہیں مگر وہ چاروں بچوں کو میدانِ جنگ میں بھیج کر ان سے خواہش کرتی ہے کہ شکست کھا کر مجھے منہ نہ دکھانا۔یہی وہ لوگ ہیں جن کے متعلق مخالف بھی کہتے ہیں کہ یہ عجیب قوم ہے جب میدان جنگ میں جاتی ہے تو اس قدر جوش کے ساتھ لڑتی ہے مگر عام حالات میں خون کا ایک قطرہ گرانا بھی گوارا نہیں کر سکتی۔ایران میں مسلمان جب گئے تو ایران کے بادشاہ نے ان کے ایک وفد کوطلب کیا اور اس سے کہا کہ تم لوگ وحشی اور گو ہیں کھا کر زندگی بسر کرنے والے ہو۔تمہیں ہمارے ملک پر فوج کشی کی جرات کیسے ہوئی۔کچھ روپیہ لے لو اور چلے جاؤ خواہ مخواہ ہلاکت میں نہ پڑو۔مگر