انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 321 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 321

321 انوار العلوم جلد ۱۳ تحقیق حق کا صحیح طریق دیئے جاتے ہیں۔پھر اللہ تعالیٰ ابدا لآباد تک کسی کو دوزخ میں کیوں رکھے گا حالانکہ ہر شخص کے کچھ نہ کچھ نیک اعمال بھی ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ مَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهُ ٥٦ اور اگر وہ ہمیشہ کیلئے دوزخ میں ہی رہیں گے تو ان کے نیک کاموں کا بدلہ کب ملے گا۔آپ نے ثابت کیا کہ خواہ کسی مذہب وملت کے لوگ ہوں، ایک عرصہ تک دوزخ میں رہنے کے بعد اللہ تعالیٰ کا فضل ان کو ڈھانپ لے گا۔اور پھر جیسا کہ قرآن کریم میں ہے وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلا لِيَعْبُدُون سچا غلام سبھی بن سکتا ہے جب جنت میں آئے اور ہر رنگ میں فرمانبرداروں کا نمونہ پیش کرے۔پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ ، اگر کوئی شخص ہمیشہ کیلئے دوزخ میں رہے تو کس طرح معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سب کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔آپ نے ثابت کیا کہ ہر گناہ گار خواہ وہ کروڑوں اربوں سال دوزخ میں کیوں نہ رہے آخر وہ خدا تعالیٰ کی بخشش کے نیچے آئے گا۔یہ اعتراض مٹ جائے گا کہ اس کے بندے فرمانبردار نہیں ہیں۔غرضیکہ حضرت مرزا صاحب نے آ کر اس زمانے کی ساری ضرورتوں کو پورا کیا اور جب کام پورا ہو گیا تو پھر کسی اور کے آنیکی کیا ضرورت ہے۔۵۸ دوسری چیز یہ ہے کہ يَتْلُوهُ شَاهِدٌ مِنْهُ یہ مؤمنوں کے اندر عظیم الشان تغییر شاہد دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک ظاہری اور ایک باطنی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد ایک ایسی جماعت چھوڑی کہ دشمن نے بھی یہ تسلیم کر لیا کہ یہ خدا کے مقرب لوگ ہیں۔صحابہ میں سے سوائے ان لوگوں کے جو کمزور تھے باقی سب ایسے تھے جو الہام پاتے تھے اور اس طرح وہ جماعت کے طور پر شاہد تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد صحابہ مختلف ممالک میں گئے اور دشمن آج بھی اعتراف کرتے ہیں کہ وہ جہاں گئے وہاں لوگوں سے ایسا محبت کا سلوک کیا کہ لوگ ان کے گرویدہ ہو گئے۔مسلمانوں نے ایک دفعہ ایک عیسائی ملک پر قبضہ کیا لیکن بعد میں کسی مصلحت کی وجہ سے انہیں پیچھے ٹنا پڑا۔مگر عیسائی ان کے پاس آئے اور کہا کہ آپ نہ جائیں۔وہ لوگ مسلمانوں کے وہاں سے چلے جانے کو اپنے لئے مصیبت سمجھتے اور روتے کہ کاش آپ یہاں ہی رہیں۔اللہ جس سے ظاہر ہے کہ ان کے اندر ایک قوت اور کشش تھی کہ جس کے دشمن بھی معترف تھے۔پھر الہامات کی مثالیں بھی ان میں موجود ہیں۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے کہ ایک دفعہ اسلامی لشکر چلا آ رہا ۵۹