انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 319 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 319

319 انوار العلوم جلد ۱۳ تحقیق حق کا صحیح طریق کہ مسلمانوں نے تبلیغ چھوڑ دی بلکہ ہر قسم کی ترقی کیلئے جد و جہد ترک کر کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر آمد عیسی کا انتظار کرنے لگے اور اس وجہ سے ہر جگہ وہ نا کام ہو گئے۔اسلام غریب الدیار کی طرح ہو گیا۔ایک زمانہ تھا جب ایک مسلمان عورت عیسائی بادشاہ کے قبضہ میں آ گئی خلفائے بغداد جب برائے نام رہ گئے تو عیسائیوں نے شام کو فتح کیا اور ایک مسلمہ کو پکڑ کر اس کی بے حرمتی کی اور نقاب وغیرہ اُتارا۔اُس وقت اس نے کہا۔کہاں ہے خلیفہ المسلمین کہ ایک مسلمہ کی بے حرمتی ہو رہی ہے اور وہ اس کی حفاظت نہیں کرتا۔ایک سوداگر کے کان میں یہ آواز پہنچی اُس نے آ کر خلیفہ بغداد سے اس کا ذکر کیا۔یہ وقت وہ تھا جب یورپ کی ساری فوجیں مسلمانوں کے خلاف جمع تھیں اور مسلمان شکست کھا چکے تھے مگر پھر بھی خلیفہ نے جب یہ بات سنی تو اس نے فوراً کہا کہ خدا کی طرف سے جو فرض مجھ پر عائد ہے، میں اسے ضرور ادا کروں گا وہ گرا ہوا بلکہ مُردہ خلیفہ اُٹھا اور اس نے کہا جب تک میں اس عورت کو نہیں چھڑا لیتا آرام نہ کروں گا۔چنانچہ وہ فوج لے کر گیا، شام کو فتح کیا اور عورت کو چھڑا کر واپس لایا۔لیکن آج مسلمانوں کی یہ حالت ہے کہ اگر کوئی خانہ کعبہ پر بھی حملہ کرے تو وہ کچھ نہیں کریں گے۔ہم پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ ترکی خلیفہ کی شکست پر خوش ہوئے حالانکہ ہم تو اسے خلیفہ مانتے ہی نہ تھے۔مگر ان کو خلیفہ ماننے والے گئے اور اپنی گولیوں سے اس کے ملک کو انگریزوں کیلئے فتح کیا اور یہ اسی لئے کہ وہ جہاد کے مسئلہ کو غلط رنگ میں سمجھے ہوئے تھے۔صحابہ کرام اٹھے اور افغانستان، ایران ہند، سپین، الجزائر غرضیکہ تمام ممالک پر چھا گئے اسی طرح مسلمانوں کے اندر اگر وہی روح آج بھی ہوتی تو سب ممالک ان سے بھرے ہوئے ہوتے اور عیسائی ممالک میں جہاں مسیح کی عبادت کے گھنٹے بجتے ہیں، وہاں الله اکبر کی صدائیں بلند ہو رہی ہوتیں۔حضرت مرزا صاحب نے آکر مسلمانوں کو بتایا کہ ان کے تنزل کا باعث جہاد کے متعلق بھی غلط عقیدہ ہے اور اس طرح اس عقیدہ کے نتیجہ کے طور پر تبلیغ میں جوڑ کا وٹ تھی، اسے دور کیا۔اب جماعت احمدیہ مختلف ممالک میں تبلیغ اسلام کرتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کے نتیجہ میں ہزاروں لوگ داخلِ اسلام ہو رہے ہیں۔پھر مسلمانوں میں جنت و دوزخ کے متعلق ایسے عقائد دوزخ و جنت کی حقیقت تھے جو نوجوانوں کی بے دینی کا باعث بنے ہوئے تھے۔یہ سمجھا جاتا تھا کہ جو عیاشی یہاں منع ہے، وہ جنت میں کی جائے گی۔میں ایک دفعہ ندوۃ العلماء کے جلسہ میں گیا وہاں ایک مولوی صاحب نماز کی خوبیوں پر تقریر کر رہے تھے میں