انوارالعلوم (جلد 13) — Page 315
انوار العلوم جلد ۱۳ 315 تحقیق حق کا صحیح طریق اس سے ان کا ایمان بڑھتا رہتا تھا کہ میرا خدا زندہ خدا ہے وگر نہ وہ کبھی اتنا لمبا عرصہ دعانہ کرتے دوسرے ہی روز چھوڑ دیتے تو یقین جواب سے ہی پیدا ہوتا ہے۔مسلمانوں میں یہ ایک بھاری غلطی تھی جسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آ کر دور کیا۔آپ نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ کی صفات میں تعطل نہیں ہوسکتا۔جس طرح وہ پہلے بولتا تھا، اب بھی بولتا ہے اب بھی اس کی سب صفات جاری ہیں۔جس طرح وہ پہلے پیدا کرتا اور مارتا تھا جس طرح وہ پہلے رزق دیتا تھا، اب بھی ویسے ہی کرتا ہے اور جب وہ سب کچھ پہلے کی طرح اب بھی کرتا ہے تو اس کا بولنا کیوں بند ہو گیا۔خدا تعالیٰ کے نہ بولنے کا عقیدہ ایک ایسی نامعقول بات ہے جسے عقلِ سلیم قبول نہیں کر سکتی۔قرآن کریم کے متعلق ایک غلط عقیدہ کی اصلاح اس کے علاوہ کلام الہی کے بارہ میں مسلمانوں کا ایک عقیدہ اسلام کیلئے سخت نقصان کا موجب ہو ر ہا تھا۔تعجب کی بات ہے کہ قرآن کریم پر ایمان لانے کے مدعی ایک ایسا عقیدہ رکھتے تھے کہ جس کی بناء پر دشمن کو قرآن کریم پر ہر قسم کے اعتراضات کرنے کا موقع مل جاتا تھا۔یعنی وہ یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ قرآن کریم میں بہت سی آیات موجود ہیں مگر دراصل وہ منسوخ ہیں۔غور کرو! یہ کتنا بڑا ظلم ہورہا تھا بعض نے ایسی آیات کی تعداد گیارہ سو بعض نے سات سو بعض نے چھ سو بعض نے چار سو اور اسی طرح مختلف لوگوں نے مختلف بیان کی ہیں اور شاہ ولی اللہ صاحب نے لکھا ہے کہ ایسی آیات صرف پانچ ہیں۔ایسی آیات کے متعلق عقل سے ہی استدلال کیا جاتا ہے اور سوچو کہ اس سبب سے دشمن کو اعتراض کا کتنا موقع مل سکتا ہے۔وہ کہہ سکتا ہے کہ یقینی طور پر تو کسی کو معلوم نہیں کہ کون سی آیات منسوخ ہیں اس لئے قرآن کریم کا اعتبار ہی کیا ہو سکتا ہے ممکن ہے جو آیت تم صداقت کیلئے دلیل کے طور پر پیش کرتے ہو وہ منسوخ ہو چکی ہو۔لیکن حضرت مرزا صاحب نے آ کر اس یقین کے ساتھ اس عقیدہ کی تردید کی کہ قرآن کریم ایک زندہ کتاب بن گئی۔یہ اتنا اہم مسئلہ ہے کہ اس کے متعلق مسلمانوں میں خیال ہو گیا تھا کہ اس کا رڈ کرنا کفر میں داخل ہو گیا ہے اور بڑی دلیری سے کہتے تھے کہ فلاں فلاں آیت منسوخ ہے حالانکہ ایسا کرنے سے اسلام پر ایمان ہی نہیں رہ سکتا اور حضرت مرزا صاحب نے اس عقیدہ کی تردید کر کے جو کام کیا ہے وہ اتنا بڑا ہے کہ اسے ہی اگر مسلمان سمجھیں تو انہیں ماننا پڑے گا کہ آپ کیلئے یہی چیز بَيِّنَةٍ مِنْ رَّبِّہ تھی۔جس سے آپ نے دنیا کو ایک