انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 314 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 314

انوار العلوم جلد ۱۳ 314 تحقیق حق کا صحیح طریق نے آ کر دور کیا اور اس طرح عقل سلیم کے ایک مطالبہ کو پورا کر کے لوگوں کو اطمینان عطا کیا۔ الہام کے متعلق غلط عقیدہ کی اصلاح ایک اور غلطی یہی کہ قرآن ایک اور تھی کریم میں کی اللہ تعالی فرماتا ہے۔ بانی ماتا ہے ۔ اِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلِئِكَةُ الَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا یعنی جو لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے اور پھر استقامت دکھاتے ہیں، ان پر ملائک نازل ہوتے ہیں جو ان کو تسلی دیتے ہیں کہ کوئی حزن و غم نہ کرو۔ لیکن باوجود یکہ یہ آیت قرآن کریم میں موجود ہے مگر مسلمان خیال کرتے تھے کہ وحی کا دروازہ بند ہو چکا ہے حالانکہ قرآن کریم نے صاف طور پر بتایا ہے کہ وحی شریعت بند ہے نہ کہ دوسری وحی ۔ تو مسلمانوں میں یہ عام غلطی تھی کہ خدا تعالیٰ اب کسی سے کلام نہیں کرتا۔ کرتا حالانکہ جو بولتا نہیں اس کے متعلق یہ یقین کس طرح ہو سکتا ہے کہ وہ سنتا ہے ۔ کسی کے بولنے سے ہی پتہ لگتا ہے کہ وہ سنتا بھی ہے ۔ کسی شخص کو آواز دو نہ بولے تو سمجھو گے بہرا ہے مگر یہ بڑی عجیب بات ہے کہ مسلمان کہتے تھے اللہ تعالیٰ کو پکارتے اللہ تعالیٰ کو پکارتے جاؤ مگر وہ جوار لر وہ جواب کبھی نہیں دیتا اور جب لوگوں نے یہ سمجھ لیا کہ خدا تعالی سنتا نہیں کیونکہ وہ بولتا نہیں تو اس کی طرف توجہ ہی چھوڑ دی نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے بھی ان کی طرف توجہ چھوڑ دی ۔ لوگوں کا دعا پر سے عقیدہ بھی اُٹھ گیا۔ قرآن کریم ہمیں بتاتا ہے کہ دعا سے سب مصیبتیں دور ہو سکتی ہیں مگر دعا کی طرف انسان کی توجہ اس صورت میں ہو سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب بھی ملے لیکن اگر خالی پکارتے جاؤ اور آگے سے کچھ جواب نہ ملے تو یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی پتھر کو پکارتا جائے ۔ اولیاء کے تذکرہ کی کسی کتاب میں ہے کہ ایک بزرگ سالہا سال سے روزانہ ایک دعا کیا کرتے تھے اور روزانہ ہی ان کو جواب ملتا تھا کہ تیری یہ دعا قبول نہیں ہو سکتی۔ ایک دفعہ ان کا کوئی مریدان کے پاس آ کر رہا۔ رات کے وقت انہوں نے دعا کی تو یہی آواز آئی جو مرید کو بھی سنائی دی۔ وہ بہت حیران ہوا کہ اتنے بڑے بزرگ ہیں اور جواب ایسا ملا ہے ۔ اگلے روز پھر انہوں نے دعا کی اور پھر وہی جواب ملا جو مرید نے بھی سنا ۔ تیسرے دن جب وہ دعا کرنے لگے تو مرید نے کہا کہ بے شرمی کی کوئی حد ہونی چاہئے دو دن سے ایسا جواب مل رہا ہے اور آپ پھر وہی دعا کرنے لگے ہیں ۔ انہوں نے جواب دیا کہ بے وقوف میرا کام دعا کرنا ہے اور خدا تعالیٰ کا قبول کرنا یا نہ کرنا میں اپنا کام کئے جاتا ہوں وہ اپنا ۔ اسی وقت ان کو الہام ہوا کہ ہم نے تیرا استقلال دیکھ لیا ہے اور تیری بیس سالہ سب دعائیں قبول ہیں ۔ چونکہ ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب مل جاتا تھا