انوارالعلوم (جلد 13) — Page 299
انوار العلوم جلد ۱۳ 299 تحقیق حق کا صحیح طریق دیتا ہے کہ حضرت مرزا صاحب کی شکل دیکھتے ہی مجھ پر حقیقت حال منکشف ہو گئی۔ان کے H۔V۔C ملک غلام حیدر صاحب اس وقت راولپنڈی میں زندہ موجود ہیں ان کے ایک لڑکے ملک عطاء اللہ صاحب۔ای۔اے سی۔غالبا یہاں بھی رہے ہیں وہ خود سناتے ہیں کہ صاحب بٹالہ میں مقدمہ کی سماعت کرنے کے بعد جب سٹیشن پر واپس آیا تو بے قراری کے ساتھ پلیٹ فارم پر ٹہلنے لگا۔میں نے کہا۔ویٹنگ روم میں تشریف رکھیئے۔مگر اس نے کہا۔نہیں تم جاؤ۔پھر دیکھا کہ وہ کچھ گھبرایا سا پھرتا ہے۔میں پھر گیا اور جا کر کہا تو اس نے جواب دیا نہیں تم جاؤ۔میری طبیعت خراب ہے اور ٹہلتا رہا۔پھر مجھے کہا کہ دیکھو میں پاگل ہو جاؤں گا۔میں جس طرف جاتا ہوں مرزا صاحب کی رُوح سامنے آتی ہے جو کہتی ہے کہ مجھ پر الزام جھوٹا ہے اور مرزا صاحب کو دیکھتے ہی مجھے یقین ہو گیا ہے۔میں نے کہا آپ سپر نٹنڈنٹ صاحب پولیس کو بلا کر مشورہ کر لیں جو انگریز تھے۔چنانچہ ان کو مشورہ کیلئے بلایا گیا اور جب وہ آئے تو ڈگلس صاحب نے ان سے کہا کہ مجھے کچھ جنون سا ہو رہا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ مرزا صاحب بے گناہ ہیں، اب کیا کیا جائے۔سپرنٹنڈنٹ نے کہا کہ گواہ کو عیسائیوں کے قبضہ سے نکال کر اس سے اصل حقیقت دریافت کرنی چاہئے۔ڈپٹی کمشنر نے اُسی وقت حکم لکھا کہ وعدہ معاف گواہ پولیس کے حوالہ کیا جائے۔چنانچہ اسے منگوا کر جب سپر نٹنڈنٹ صاحب نے دریافت کیا تو پہلے تو اس نے وہی قصہ دُہرا دیا جو اُ سے یاد کرایا گیا تھا مگر جب اسے یقین دلایا گیا کہ ڈرو نہیں اب تمہیں عیسائیوں کے حوالہ نہیں کیا جائے گا۔تو وہ چیخ مار کر پاؤں پر گڑ پڑا اور کہا کہ یہ سب جھوٹ ہے عیسائیوں نے قتل کی دھمکی دے کر مجھ سے یہ شہادت دلوائی ہے وگر نہ حضرت مرزا صاحب کے جن مریدوں کا ذکر گواہی میں ہے مجھے تو ان کے نام بھی یاد نہیں ہیں وہ میری ہتھیلی پر لکھ کر مجھے عدالت میں بھیجتے ہیں۔یہ سارا واقعہ سپرنٹنڈنٹ پولیس نے ڈپٹی کمشنر سے بیان کر دیا جس نے اگلی ہی پیشی پر مقدمہ خارج کر دیا۔حالانکہ دعوی کرنے والوں میں بڑے بڑے پادری شامل تھے۔ایک پادری وارث الدین تھے جو عیسائیوں میں بہت معزز سمجھے جاتے تھے۔چنانچہ پنجاب ریلیجس بک سوسائٹی نے ان کے نام پر ایک وارث فونٹین پن ایجاد کیا۔جسے ہمارے بعض مسلمان نوجوان بھی نہایت شوق سے خریدتے ہیں، محض اس وجہ سے کہ وہ کچھ ستا ملتا ہے۔ڈگلس صاحب نے مرزا صاحب کو یہ بھی کہا کہ آپ ان پر نالش کر سکتے ہیں۔مگر آپ نے جواب دیا کہ مجھے کسی پر مقدمہ کرنے کی ضرورت نہیں میرے لئے یہ کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے عزت کے ساتھ بری کر دیا۔