انوارالعلوم (جلد 13) — Page 298
انوار العلوم جلد ۱۳ 298 تحقیق حق کا صحیح طریق نئے لوگ داخل نہ ہوں۔آج ہی دیکھ لو ایک سو کے قریب افراد نے میرے ہاتھ پر بیعت کی ہے اس کی وجہ یہ نہیں کہ میں مرکز سے باہر آیا ہوں بلکہ کوئی ہندو آریہ عیسائی، غیر احمدی جو چاہے آئے اور آ کر دیکھ لے کہ میری روزانہ ڈاک میں احمدی ہونے والوں کے کتنے خطوط ہوتے ہیں اور کوئی موقع ایسا نہیں ہوتا کہ میں باہر آؤں اور بیعت کرنے والا کوئی نہ ہو۔غرض اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر ملک میں جماعت قائم ہو چکی ہے اور جہاں ایک آدمی بھی گیا وہاں جماعت قائم ہو گئی۔جس سے ظاہر ہے کہ جو آپ کی مدد کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی مدد کرتا ہے۔اور جو اہانت کرنا چاہتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو ذلیل کرتا ہے۔حضرت مرزا صاحب پر ایک پادری نے مقد م قتل اور دشمنوں کی روسیاہی قتل کا مقدمہ دائر کرایا اور بیان کیا کہ میرے قتل کیلئے آپ نے ایک آدمی کو بھیجا ہے۔اس زمانہ میں گورداسپور کے ڈپٹی کمشنر کیپٹن ڈگلس تھے جو بڑے متعصب خیال کئے جاتے تھے۔چنانچہ وہ جب اس ضلع میں آئے تو معلوم ہوا کہ انہوں نے اس رائے کا اظہار کیا تھا کہ یہ شخص ہمارے مذہب کی اتنے عرصہ سے مخالفت کر رہا ہے ابھی تک اسے کوئی سزا کیوں نہیں دی گئی۔ایسا انسان ڈپٹی کمشنر تھا، ایک پادری کی طرف سے مقدمہ دائر تھا، جس میں پادری کی طرف سے گواہی دینے کیلئے مولوی محمد حسین صاحب گئے ان کا خیال تھا کہ پولیس مرزا صاحب کو گرفتار کر کے لائے گی اور وہ ذلیل حالت میں عدالت کے روبرو کھڑے کئے جائیں گے، جنہیں میں دیکھوں گا۔مگر وہی دشمن انگریز افسر جواب تک زندہ ہے اس امر کی گواہی دیتا ہے کہ آپ کو دیکھ کر اس پر ایسا رعب طاری ہوا کہ اس نے آپ کو بیٹھنے کیلئے کرسی پیش کی۔یہ حالت دیکھ کر مولوی محمد حسین صاحب غصہ سے جل بھن گئے اور آگے بڑھ کر کہنے لگے مجھے بھی کرسی ملنی چاہئے مگر عدالت نے انکار کر دیا۔اس پر انہوں نے اصرار کیا تو عدالت نے کہا۔بک بک مت کر پیچھے ہٹ کر کھڑا ہو جا۔اس پر وہ باہر آ گئے وہاں ایک کرسی پڑی تھی، اس پر بیٹھ گئے۔مشہور ہے کہ جس پر آقا ناراض ہو نو کر بھی ناراض ہوتے ہیں۔چپڑاسی نے یہ خیال کر کے کہ اگر صاحب نے دیکھ لیا تو مجھ پر ناراض ہوگا انہیں کرسی سے اٹھا دیا۔اس کے بعد ایک چادر پر کچھ مسلمان بیٹھے تھے، مولوی صاحب اس پر جا بیٹھے لیکن چادر والے نے یہ کہتے ہوئے کہ جو شخص ایک مسلمان کے خلاف گواہی دینے آئے، میں اس سے اپنی چادر پلید کرانا نہیں چاہتا، چادر کھینچ لی۔وہ کیپٹن ڈگلس جو بعد میں کرنل ہو گیا تھا آج بھی زندہ موجود ہے اور شہادت