انوارالعلوم (جلد 13) — Page 296
انوار العلوم جلد ۱۳ 296 تحقیق حق کا صحیح طریق ۲۴ وقت ایمان لے آیا ہے تو رسول کریم ﷺ کی زندگی میں کثرت سے ایسے واقعات ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ فرشتے آپ کی حفاظت کرتے تھے۔ ایک عورت نے آپ کو کھانے میں زہر دینا چاہا ایک صحابی نے وہ کھانا کھا لیا اور وہ فوت ہو گئے لیکن آپ نے لقمہ اُٹھایا اور پھر رکھ دیا ۲۵ ۔ اسی طرح آپ پر پیچھے سے پتھر گرا کر ہلاک کرنے کی کوشش کی گئی ۔ مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو بچا لیا ہے۔ آپ بالکل اکیلے باہر چلے جاتے تھے صحابہ کا بیان ہے کہ ایک دفعہ رات کو مد ینہ سے باہر کچھ شور ہوا وہ جب اٹھ کر دیکھنے کے لئے جا رہے تھے تو رسول کریم ﷺ گھوڑے پر واپس صلى علی آتے ہوئے ان کو ملے اور فرمایا۔ میں دیکھ آیا ہوں، کوئی خطرہ کی بات نہیں ہے۔ تو آپ راتوں کو اکیلے پھرتے مگر آپ کو کوئی گزند نہ پہنچا سکا حالانکہ سب آپ کو قتل کرنا چاہتے تھے ان کی سب تدابیر نا کام ہوئیں ۔ ایسا ہی حضرت انتہائی مخالفت کے باوجود حضرت مرزا صاحب کی کامیابی مرزا صاحب کے متعلق ہوا ۔ آپ کے خلاف بھی دشمنوں نے ہر طرح زور لگایا، قتل کے جھوٹے مقدمات آپ پر دائر کئے گئے آپ کو قید کرانے کی کوششیں کی گئیں، آپ کی جان لینے کے منصوبے کئے گئے ۔ لکھنو کے ایک مولوی صاحب قادیان آئے بعد میں احمدی ہو گئے انہوں نے بتایا کہ میں آیا تو آپ کو قتل کرنے کی نیت سے تھا مگر یہاں آ کر صداقت کھل گئی ۔ جس طرح رسول کریم ﷺ کو نقصان پہنچانے کی تمام تدابیر نا کام ہوئیں اور دشمنوں کی شکست کی تمام پیشگوئیاں جو رسول کریم نے کیں مثلاً فتح مکہ کی خبر فتح خیبر کی خبر اور ابو جہل کی موت کہ کہاں اور کس طرح واقع ہوگی ہیں ۔ رس صلى وغیرہ وہ سب پوری ہوئیں ۔ اسی طرح کی مثالیں حضرت مرزا صاحب کی زندگی میں بھی ملتی رسول کریم ﷺ کو سخت مخالف حالات میں جو کامیابی ہوئی دشمن بھی اس کے معترف ہ رف ہیں ۔ ایک انگریز مصنف لکھتا ہے کہ اسلام پر جو چاہو اعتراض کر ولیکن ایک بات سخت حیران کن ہے اور وہ یہ کہ ایک کچا مکان جس پر کھجور کی ٹہنیوں کی چھت پڑی ہے اور بارش میں پانی چھت سے ٹپک ٹیک کر فرش پر کیچڑ ہو جاتا ہاتا ہے، اس کے اندر ج : چند لوگ بیٹھے ہیں، جن میں سے اگر اگر کسی کا تہ بند ہے تو گرتا نہیں اور گرتا ہے تو پگڑی نہیں غرضیکہ کسی کے بدن پر بھی پورے کپڑے نہیں ہیں وہ نہایت سنجیدگی سے اس امر پر غور کر رہے ہیں کہ فلاں ملک کو کس طرح فتح کیا جائے اور فلاں کو کس طرح اور پھر وہ کر کے دکھا بھی دیتے ہیں۔ وہ کہتا ہے : ۔ تم محمد (صلی اللہ علیہ والہ وسلم ) پر جو چاہو