انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 284 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 284

284 انوار العلوم جلد ۱۳ تحقیق حق کا صحیح طریق سے معلوم ہوتا ہے کہ سخت خطرہ تھا۔پھر میں کہتا ہوں دلائل کو جانے دو اپنے نفسوں کو ٹولو۔کیا آج کے مسلمان وہی ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیدا کرنا چاہتے تھے۔بحث اور ہار جیت کے خیال کو دل سے نکال کر ہر شخص اپنے گھر میں دروازے بند کر کے بیٹھے اور خلی پا لطبع ہو کر غور کرے کیا میں وہی مسلمان ہوں جو محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیدا کرنا چاہتے تھے اور پھر دیانتداری کے ساتھ اس کا نفس جو جواب دئے وہ آ کر مجھے بتائے۔پھر اپنے محلے والوں اپنے گاؤں یا شہر والوں اپنے ضلع اور صوبہ والوں کے متعلق یہی سوال کرے کہ کیا یہ وہی مسلمان ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بنانا چاہتے تھے۔میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ سو میں سے سو کو یہی جواب ملے گا کہ ہر گز نہیں اور جب یہ حالت ہے تو مسلمان غیر مسلموں میں تبلیغ کیسے کر سکتے ہیں۔آج ہی اس کا تجربہ کر لو غیر مسلمانوں کے پاس جا کر تبلیغ کروان میں سے ہر ایک یہی جواب دے گا کہ اگر یہی مسلمان ہیں جو اسلام پیدا کرنا چاہتا تھا، تو ہم ان سے دور ہی اچھے ہیں۔پھر خود اپنی حالت کو دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو مسلمان پیدا کرنا چاہتے تھے، ان کی یہ حالت تھی کہ ابتدائی ایام میں جب آپ نے مردم شماری کا حکم دیا اور مسلمان سات سو نکلے تو اس پر صحابہ نے آپ کی خدمت میں عرض کیا یا رسول اللہ ہم حیران ہیں آپ نے کیوں مردم شماری کرائی۔کیا آپ کا یہ خیال ہے کہ دنیا ہمیں مٹادے گی اب تو ہم سات سو ہو گئے ہیں، اب ہمیں کیا خدشہ ہو سکتا ہے اور ہم پر دنیا میں کون فتح پاسکتا ہے۔مگر کجا یہ کہ آج با وجود اس کے مسلمان کروڑوں کی تعداد میں ہیں ہر مسلمان کی گردن دوسروں کے ہاتھ میں ہے کسی لحاظ سے بھی انہیں ثریت اور آزادی نصیب نہیں اور دوسروں کے ڈر کے مارے ان کی جان نکلتی ہے۔پھر اپنے نفسوں سے پوچھنے کو بھی جانے دو۔آؤ ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی پوچھتے ہیں کہ آپ کی اُمت میں بگاڑ ممکن ہے یا نہیں۔آپ فرماتے ہیں۔مجھے اس خدا کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ جس طرح ایک جوتی دوسری جوتی سے مشابہ ہے اسی طرح میری اُمت میں بھی یہود کے مشابہ لوگ ہو جائیں گے اور اسی طرح ان کا تتبع کریں گے۔گویا آپ نے یہ خبر دی ہے کہ یہودیت اور نصرانیت کا رنگ پیدا ہو جائے گا۔چلو ہم مان لیتے ہیں کہ یہ حالت آج نہیں لیکن یہ تو ماننا پڑے گا کہ یہ حالت پیدا ضرور ہوگی اور جب وہ حالت پیدا ہو گی تو کسی روحانی مصلح کو اس وقت آنا چاہئے یا نہیں۔اگر یہ کہا جائے کہ مسلمان تو ضرور یہود کے ہمرنگ ہو جائیں گے مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی مصلح کی ضرورت نہیں تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ