انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 280 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 280

انوار العلوم جلد ۱۳ 280 تحقیق حق کا صحیح طریق تعالیٰ آپ پر دو موتیں وارد نہیں کرے گا۔پھر آپ باہر آ کر کھڑے ہوئے اور آیت کریمہ وما مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَإِنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمُ عَلَى أَعْقَابِكُمْ تلاوت کر کے فرمایا۔اے مسلمانو! محمد اللہ تعالیٰ کے رسول تھے خدا نہیں تھے آپ سے پہلے جتنے بھی رسول ہوئے وہ سب فوت ہو چکے ہیں اگر آپ فوت یا قتل ہو جائیں تو کیا تم ایڑیوں کے بل پھر جاؤ گے۔پھر فرمایا۔مَنْ كَانَ مِنْكُمْ يَعْبُدُ مُحَمَّداً فَإِنَّ مُحَمَّداً قَدْمَاتَ وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ الله فَإِنَّ اللهَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ سے یعنی جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پوجتا تھا، وہ سمجھ لے کہ آپ فوت ہو چکے ہیں اور جو خدا کی پرستش کرتا تھا، وہ مطمئن رہے کہ خدا ہمیشہ زندہ ہے۔حضرت عمر بیان کرتے ہیں کہ جب میں نے یہ بات سنی تو مجھے یقین ہو گیا کہ میری غلطی تھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واقعی فوت ہو گئے ہیں۔اس پر میرے پاؤں کے نیچے سے زمین نکلنے لگی اور میں گر پڑا۔دوسرے صحابہ بھی بیان کرتے ہیں کہ یوں معلوم ہوتا تھا جیسے ہمارے پاؤں تلے سے زمین نکلی جا رہی ہے۔وہ بے تحا شا مدینہ کی گلیوں میں دیوانہ وار بھاگے پھرتے اور حضرت حستان کے یہ شعر پڑھتے تھے۔جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کی خبر سن کر انہوں نے بے اختیار کہے تھے۔كُنتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِى مِيَ عَلَيْكَ النَّاظِرُ مَنْ شَاءَ بَعْدَكَ فَلْيَمُتُ فَعَلَيْكَ كُنتُ أُحَاذِرُ یعنی تو میری آنکھ کی پتلی تھا۔تیری موت سے میری آنکھیں اندھی ہو گئیں اب تیرے بعد کوئی مرے یا جیئے ہمیں کیا۔ہمیں تو تیری زندگی کی پر واہ تھی۔یہ واقعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے معاً بعد ہوا جسے کوئی مسلمان سوائے اس کے کہ اس کی آنکھیں پرنم ہو جائیں اور آواز کا نپنے لگے پڑھ یا سن نہیں سکتا۔اگر صحابہ کا عقیدہ یہ ہوتا کہ حضرت عیسی علیہ السلام زندہ آسمان پر بیٹھے ہیں اور پھر آئیں گے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ یہ کیوں کہتے کہ آپ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرح آسمان پر گئے ہیں۔انہیں تو یہ کہنا چاہئے تھا کہ جس طرح حضرت عیسیٰ آسمان پر گئے تھے آپ کبھی گئے ہیں۔پھر حضرت ابو بکر اس آیت سے استنباط کرتے ہیں جس میں یہ ذکر ہے کہ سب رسول فوت ہو چکے ہیں اگر صحابہ میں کوئی شخص حضرت عیسی کے آسمان پر جانے کا