انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 279 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 279

279 انوار العلوم جلد ۱۳ تحقیق حق کا صحیح طریق اس وقت آپ کی حفاظت کر رہے تھے ان میں سے بعض شہید ہوئے اور ان کی لاشیں آپ کے اوپر گر گئیں۔اس سے یہ خبر پھیل گئی کہ آپ شہید ہو گئے ہیں لیکن جب صحابہ کرام نے باہر نکالا تو معلوم ہوا کہ آپ زندہ ہیں۔آپ کی شہادت کی خبر مدینہ میں بھی پہنچ گئی۔اس واقعہ کے چند گھنٹے بعد آپ مدینہ واپس آگئے لیکن آپ کی آمد سے قبل عورتیں اور بچے سب روتے اور بلکتے ہوئے شہر سے باہر نکل آئے۔ایک صحابی گھوڑا دوڑاتے ہوئے سب سے آگے جا رہے تھے۔وہ جب ان عورتوں کے پاس پہنچے تو ان میں سے ایک نے سوال کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کیا حال ہے؟ اس نے چونکہ آپ کو اپنی آنکھوں سے زندہ دیکھا تھا اور اس کے دل سے بوجھ ہٹ چکا تھا اس لئے اس نے سوال کا جواب تو نہ دیا بلکہ یہ کہا کہ تیرا باپ مارا گیا ہے۔مگر اس عورت نے کہا میں نے باپ کا تم سے کب پوچھا ہے مجھے تو یہ بتاؤ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہے؟ صحابی کا دل چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زندہ ہونے کی خوشی سے بھرا ہوا تھا اس لئے پھر اس نے اس کے سوال کی طرف توجہ نہ کی اور کہا تیرا بھائی بھی مارا گیا مگر اس عورت نے پھر کہا کہ میں نے تجھ سے یہ سوال کیا کب ہے؟ میں تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حال پوچھ رہی ہوں۔اس نے پھر بھی اس سوال کی اہمیت کو نہ سمجھا اور کہا کہ تیرا خاوند بھی شہید ہو گیا ہے مگر اس عورت نے کہا میں نے تم سے خاوند کے متعلق کب پوچھا ہے ؟ تم یہ بتاؤ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کیا حال ہے؟ اس نے کہا آپ تو خدا کے فضل سے زندہ سلامت ہیں۔اس پر اس عورت نے کہا پھر کوئی پرواہ نہیں خواہ کوئی مارا جائے۔تو یہ ان لوگوں کے عشق کا حال تھا۔ایک فدائیت کی روح تھی جو ان کے اندر کام کر رہی تھی اور وہ یہ سننا بھی گوارا نہیں کر سکتے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات پاگئے ہیں۔جب آپ کی وفات ہوئی تو اس خبر کوسن کر حضرت عمر اتنے جوش میں آئے کہ آپ نے کہا جو یہ کہے گا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فوت ہو گئے ہیں، میں اُس کی گردن اُڑا دوں گا۔آپ تو موسی کی طرح آسمان پر گئے ہیں، اللہ تعالیٰ سے باتیں کر کے واپس آئیں گے اور منافقوں کی اچھی طرح خبر لیں گے۔حضرت ابو بکر اس وقت مدینہ میں نہ تھے بلکہ کسی کام سے باہر گئے ہوئے تھے۔بعض صحابہ نے آپ کے پیچھے آدمی دوڑائے کہ جلدی آئے اسلام میں ایک فتنہ پیدا ہونے لگا ہے۔چنانچہ آپ آئے اور سیدھے اندر چلے گئے جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم مبارک تھا۔حضرت ابو بکر نے آپ کے منہ سے چادر اٹھائی جھکے، پیشانی پر بوسہ دیا اور کہا کہ میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں اللہ