انوارالعلوم (جلد 13) — Page 271
انوار العلوم جلد ۱۳ 271 تحقیق حق کا صحیح طریق بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ تحقیق حق کا صحیح طریق فرموده ۸ - اپریل ۱۹۳۴ء بمقام لائکپور ) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔انسانی پیدائش کی غرض برادران کرام! اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہت بڑے مقاصد کے پورا کرنے کیلئے پیدا کیا ہے مگر انسان باوجود اس کے کہ اسے ایک ایسی عظیم الشان حکمت کے ماتحت پیدا کیا گیا ہے اور اتنے بڑے مقاصد کو پورا کر نے کیلئے پیدا کیا گیا ہے کہ جن کی عظمت کے خیال سے ہی دل خشیت سے بھر جاتا ہے پھر بھی وہ ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں کی طرف متوجہ اور ایسے حقیر امور کی جانب جھکا رہتا ہے کہ عقلمند اس کی اس عمومی حالت کو دیکھ کر نہایت ہی حیران رہ جاتا ہے۔انسانی پیدائش کا کوئی خاص مقصد ہونے کے متعلق جتنے مذاہب بھی دنیا میں ہیں، خواہ وہ کسی ملک کے ہوں اور خواہ وہ کسی الہامی کتاب کے ماننے والے ہوں، تسلیم کرتے ہیں کہ انسانی پیدائش خدا کے ساتھ ایک ہو جانے اور اس کا دیدار حاصل کرنے کیلئے وقوع میں آئی ہے اور اس مسئلہ کے متعلق مذاہب میں کوئی اختلاف نہیں۔اہلِ ہنود کے علماء سے پوچھ لو وہ یہی بتا ئیں گے کہ انسانی پیدائش اسی لئے ہے کہ انسان ایک دن اپنے پیدا کرنے والے میں جذب ہو جائے، یہود سے پوچھو تو وہ بھی یہیں کہیں گے کہ انسانی پیدائش کی غرض یہی ہے کہ انسان خدا کی بارگاہ میں پہنچ جائے، مسلمانوں کا بھی یہی عقیدہ ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ ملاقات کی آرزو نہیں رکھتا وہ نابینا اور گنہگار ہے، عیسائی بھی اسی بات کے مدعی ہیں کہ جو شخص خدا کی طرف جھکتا ہے اسے وہ اپنے تخت پر بٹھاتا ہے سکھ اور زرتشتی وغیرہ بھی یہی کہتے ہیں کہ پیدائش