انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 264 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 264

۲۶۴ انوار العلوم جلد ۱۳ مسجد کا دروازہ ہر مذہب کے عبادت گزاروں کیلئے گھلا رہنا چاہئے اَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ۔هُوَ النَّاصِرُ مسجد کا دروازہ ہر مذہب کے عبادت گزاروں کیلئے کھلا رہنا چاہیئے فرمودہ ۷۔اپریل ۱۹۳۴ء برموقع افتتاح بیت فضل لائل پور ) تشهد تعوذ کے بعد حضور نے فرمایا: خلافت کے شروع ایام سے ہی میں نے یہ اصول مقرر کیا ہوا ہے کہ میں جماعتوں کی طرف سے عام دعوت پر قادیان سے باہر نہیں جایا کرتا جس کی وجہ یہ ہے کہ اگر ایک جماعت کے بلانے پر اس کے ہاں جاؤں تو جو محبت اور اخلاص ہر جماعت کے احباب کو ہے، اس کی وجہ سے رقابت کے باعث یا تو مجھے ہر وقت باہر رہنا پڑے گا یا پھر بعض جماعتوں کو شکوہ ہو گا کہ فلاں جگہ گئے اور ہمارے ہاں نہیں آئے۔اس سے قبل صرف ایک ہی مثال ایسی ہے کہ جہاں میں جماعت کی دعوت پر گیا یعنی سیالکوٹ کی جماعت کے بلانے پر میں وہاں گیا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی زندگی میں ایک بار اور وہاں جانے کا وعدہ فرمایا تھا اس وعدہ کو پورا کرنے کے لئے میں جماعت کی خواہش پر وہاں گیا۔اب یہاں جو آنا میں نے منظور کیا ہے اس کی وجہ زیادہ تر یہی ہے کہ میں نے سمجھا کہ یہ خاص طور پر دینی کام ہے۔لائل پورنو آبادی کا مرکز ہے اور اس لحاظ سے گویا نئی دنیا ہے چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک کشف بھی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ایک نئی دنیا بنانے آئے تھے اس لئے میں نے خیال کیا کہ جو نئی دنیا بسی ہے وہاں جاؤں تا وہ کشف ایک رنگ میں پورا ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ