انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 249 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 249

انوار العلوم جلد ۱۳ ۲۴۹ احمدیت کے اصول میں ایک دفعہ ہندوستان سے باہر گیا۔وہاں بعض لوگوں قرآن خدا کا کلام ہے نے مجھ سے سوال کیا کہ قرآن کریم، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر الہام نہیں ہوا تھا۔ہم یہ تو نہیں کہتے کہ آپ جھوٹے تھے مگر قرآن آپ کے دل کے خیالات تھے اور یہ بھی آپ کا خیال تھا کہ کوئی خدا ہے جو یہ آیات آپ پر نازل کرتا ہے۔ورنہ خدا کا منہ نہیں زبان نہیں پھر کس طرح ہم یہ سمجھ لیں کہ یہ اس کی باتیں ہیں۔میں نے ان سے کہا کہ آپ لوگوں کی یہ دلیل اس شخص پر تو اثر کر سکتی ہے جس نے خود کچھ نہ دیکھا ہوا اور عقلی طور پر خدا کا قائل ہو۔میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خادموں کا خادم ہوں اور اس شخص کے متبعین میں سے ہوں جس کا دعوی ہے کہ بعد از خدا بعشق گر کفر این بود محمد محترم بخدا سخت کافرم اور جو یہ کہتا ہے کہ میں آپ کا ایک ادنیٰ چاکر ہوں۔جب میں نے خود خدا کی آواز اور اس کی باتیں اپنے کانوں سے سنی ہیں تو کیا تم دلیل سے مجھے منوا سکتے ہو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قرآن خدا کی طرف سے نازل نہیں ہوا تھا، بلکہ آپ کے دل کے خیالات تھے۔جو شخص عقلی طور پر خدا کو مانتا ہے وہ بے شک ان دلائل سے متاثر ہو گا کہ جب خدا کا منہ نہیں تو وہ بات کیسے کرتا ہے مگر جس کے کانوں میں خدا کی آوازیں آتی ہوں، وہ تو ایسی باتیں کرنے والوں سے یہی کہے گا کہ اے جاہل ! تیری سائنس اور تیرے علم نے تجھے تباہ کر دیا حقائق کے سامنے ان کی کیا حقیقت ہے۔غرض حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے يَتْلُوا عَلَيْهِمُ اینه کا ایسا زندہ ثبوت پیش کیا ہے کہ اگر کوئی غور کرے تو اسے تسلیم کرنا پڑے گا کہ قرآن خدا کا کلام ہے اور ایک زندہ خدا موجود ہے۔جس کے مقابل پر بادشاہ اور حکومتیں کوئی حیثیت نہیں رکھتیں۔یہی ایمان لے کر ہم دنیا میں جاتے ہیں اور علی الاعلان کہتے ہیں کہ کوئی چیز دنیا کی ہمارے مقابل میں کوئی ہستی نہیں رکھتی۔ایک انگریز نے مجھ سے سوال کیا کہ کیا سائنس کی اس قدر ترقیوں کے باوجود آپ کا خیال ہے کہ اسلام غالب آ جائے گا۔یہ خیال یہاں تک ترقی کر گیا ہے کہ خود مسلمان کالجیٹ بھی اسی قسم کے سوال کرتے رہتے ہیں۔میں نے اسے جواب دیا کہ مجھے اس کا ایسا ہی یقین ہے جیسا کہ اپنی ہستی کا۔شملہ کے آریہ سماج کے سیکرٹری صاحب ایک دفعہ مجھ صداقت اسلام کا ثبوت سے ملنے کیلئے آئے اور سوال کیا کہ اسلام کی صداقت