انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 233 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 233

انوار العلوم جلد ۱۳ ۲۳۳ اہم اور ضروری امور بچوں کی عمدہ طور پر پرورش اور تربیت کر سکیں۔انہیں تھوڑا بہت لکھنا پڑھنا آتا ہوا ور جن عورتوں کو انگریز عورتوں سے ملنا پڑتا ہوا نہیں انگریزی زبان آنی چاہیئے۔اس کے لئے یہ ضروری نہیں کہ وہ انٹرنس پاس کریں۔یا ایف۔اے اور بی۔اے کی ڈگریاں حاصل کریں، سوائے ان کے جو تعلیم دینے والی ہوں۔میں نے سارہ بیگم کو اسی لئے اس طرف لگایا تھا کہ بی۔اے بن جائیں تا ہمیں اپنے گرلز سکول کے لئے اُستانی مل جائے اور اپنی لڑکی کو ان کے ساتھ اس لئے لگا دیا تھا کہ اکیلے پڑھنا مشکل ہوتا ہے۔عام طور پر لڑکیوں کی تعلیم زیادہ سے زیادہ مڈل تک ہونی چاہیئے اور اس میں بھی دینی تعلیم کا حصہ زیادہ ہو اگر چہ آج کل کی رو کے ماتحت جماعت کا بڑا حصہ اس کے مخالف ہے مگر میں اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ اس کی اصلاح کروں۔اب وقت نہیں ہے کہ میں اس اصلاح کی تفصیل بیان کر سکوں مگر میں جماعت کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ وہ اس بارے میں میرا نقطہ نگاہ سمجھے اور موجودہ طریق تعلیم میں اصلاح کرے۔ہم لڑکوں کو کالجوں میں بھیجنے کے لئے مجبور ہیں کہ وہ ڈگریاں حاصل کریں کیونکہ اس کے بغیر وہ سرکاری اداروں میں کام نہیں کر سکتے اور نوکری نہیں مل سکتی مگر یہ حقیقت ہے کہ لڑکے کالجوں میں جا کر خراب اثر کے ماتحت ہوتے ہیں۔اگر ان کی مائیں بھی ایسی ہوں گی جو ناول پڑھنے میں مصروف رہیں گی تو ہمارے بچوں کی اصلاح کس طرح ہو سکے گی۔ہماری جماعت کے بچوں کی مائیں ایسی ہونی چاہئیں جو دین سے واقف ہوں اور علم دین جانتی ہوں تا کہ بچوں پر جو بُرے اثرات پڑیں انہیں دُور کر سکیں۔دوسری چیز تربیت ہے۔یہ تقریروں احمدیوں کی تربیت کے متعلق اعلان سے نہیں ہو سکتی۔ایک صوفی کا قول ہے کہ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ خلافت کے بعد پہلا خطبہ بیان نہ کر سکے وہ کھڑے ہوئے مگر پھر خاموش ہو کر بیٹھ گئے تو اس کے متعلق اس صوفی نے کہا۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا سب سے بڑا خطبہ یہی تھا۔انہوں نے اس طرح بتایا کہ تقریروں سے اصلاح نہیں ہوتی بلکہ کام کرنے سے ہوتی ہے۔اصل بات تو یہ ہے کہ حضرت عثمان تقریر کرنے کے عادی نہ تھے جب وہ تقریر کرنے کے لئے کھڑے ہوئے تو گھبرا گئے۔مگر یہ سچی بات ہے کہ اصلاح اور تربیت تقریروں سے نہیں ہو سکتی بلکہ اس کے لئے عمل کی ضرورت ہے۔تربیت دو قسم کی ہوتی ہے۔ایک تربیت ابدال یا تبدیلی سے ہوتی ہے اور ایک تربیت سلوک سے ہوتی ہے۔صوفیاء نے ان دونوں طریق کو تسلیم کیا ہے۔تبدیلی یہ ہے کہ انسان