انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 232 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 232

۲۳۲ انوار العلوم جلد ۱۳ اہم اور ضروری امور کے ساتھ ہی میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ بعض لوگوں نے میری تحریروں سے یا اپنے طور پر بعض غلط اندازے لگائے ہیں میں ان کی اصلاح کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔میں اس بات کا قائل نہیں ہوں کہ کوئی وجود خواہ وہ کتنا ہی لائق ہو یا کتنا ہی لائق بننے کے قابل ہو دنیا کا انحصار اس پر ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ کے ابنیاء دنیا میں آتے ہیں اور پھر فوت ہو جاتے ہیں ان کے بعد بھی دنیا چلتی رہتی بلکہ ترقی کرتی ہے۔اسی طرح میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ خواہ کوئی چیز کتنی پیاری اور کتنی محبوب ہو جب خدا تعالیٰ وہ لے لیتا ہے تو اسی دنیا میں اُس سے بہتر دیتا ہے یا ہم امید رکھتے ہیں کہ وہ پھر مل جائے گی اس دنیا میں نہیں تو اگلے جہان میں۔پس میری بیوی کا فوت ہونا کوئی ایسا نقصان نہیں تھا کہ اسے نا قابل تلافی نقصان قرار دے دیا جاتا۔خدا تعالیٰ جو کچھ کرتا ہے حکمت کے ماتحت کرتا ہے اور ہر بلا کیں قوم را حق داده آں است است زیر آن گنج کرم بنهاده بالکل درست ہے۔اگر ہمیں یہ یقین حاصل نہ ہو کہ خدا تعالیٰ ہم پر جو مصیبت لاتا ہے، ہماری بہتری کے لئے ہی لاتا ہے تو ہم ایمان میں بچے نہیں ہو سکتے لیکن ان کی وفات کے بعد تعلیم نسواں کے متعلق میرے دل میں یہ احساس پیدا ہوا کہ ہماری جماعت اس بارے میں وہی غلطی کر رہی ہے جو پہلوں سے ہوئی اور وہ یہ کہ وہ زنانہ تعلیم اُسی لائن پر چلا رہے ہیں جو یو نیورسٹی نے بنائی ہے ہمیں ایسا نہیں کرنا چاہیئے۔اُن کی اور ہماری حالت میں بہت بڑا فرق ہے۔وہ لوگ یو نیورسٹی سے باہر کی تعلیم کو کچھ سمجھتے ہی نہیں۔ولایت میں بڑے بڑے عالم یو نیورسٹیوں سے باہر تعلیم پانے والے ہوتے ہیں مگر ہمارے ملک میں جو یونیورسٹی سے باہر کا تعلیم یافتہ ہو اُس کی قابلیت کو کوئی وقعت ہی نہیں دی جاتی۔اس کے مقابلہ میں اگر کوئی شخص حد درجہ کا جاہل اور کم عقل ہو، مگر یونیورسٹی کی کوئی ڈگری رکھتا ہو تو اُس کی قدر کی جاتی ہے حالانکہ میں نے یونیورسٹی کی بڑی بڑی ڈگریاں رکھنے والوں سے ایسی ایسی جہالت کی باتیں سنی ہیں کہ جو عام جاہل بھی کم ہی کرتے ہوں گے۔دراصل علم یونیورسٹی کی ڈگریوں کا نام نہیں ہے اور ضروری نہیں کہ جو لوگ یو نیورسٹی کی ڈگریوں کو علم سمجھتے اور ڈگریوں کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں ہم اُن کے نقشِ قدم پر چلیں اور یہ سمجھیں کہ عورتوں کو یونیورسٹی کی تعلیم کی ضرورت ہے۔عورتوں کا ایک ضروری کام بچوں کی پرورش کرنا اور ان کی تربیت کرنا ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ ان کو ایسی تعلیم دی جائے کہ وہ