انوارالعلوم (جلد 13) — Page 228
۲۲۸ انوار العلوم جلد ۱۳ اہم اور ضروری امور کرتے تو یہ نہیں سمجھا جائے گا کہ تم نے صبر سے کام لیا بلکہ یہ کہا جائے گا کہ تم مقابلہ کر ہی نہیں سکتے تھے۔پس میں نے لاٹھی رکھنے کا حکم مارنے کے لئے نہیں بلکہ مار کھانے کے لئے دیا ہے۔اگر ہمارے پاس پستول ہوا اور دشمن ہم پر حملہ کرے، مگر ہم پستول نہ چلائیں تو دشمن بھی محسوس کرے گا اور دوسرے لوگ بھی اُسے کہیں گے کہ کچھ تو شرم کر۔وہ تمہارا سر اڑ سکتا تھا مگر اُس نے صبر سے کام لیا لیکن اگر کچھ پاس نہ ہو تو نفس بھی شبہ کرے گا کہ شاید بزدلی کے سبب سے میں نے مقابلہ نہیں کیا اور دیکھنے والے بھی یہی کہیں گے کہ بیچارے بے کس کو مارا۔اگر یہ بھی کچھ کر سکتا تو دیکھتے کہ اس کو کس طرح پیٹا جاتا۔اشتہاروں کے متعلق یہ نقص پیدا ہو جاتا ہے کہ بعض اوقات سخت الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں۔یہ بات مجھے بہت ہی نا پسند ہے۔پھر اشتہارات شائع کرنے کا بھی ایک مرض ہوتا ہے۔ہر شخص سمجھتا ہے کہ میں بھی کچھ لکھوں اور اپنی طرف سے شائع کروں۔اس قسم کے اشتہارات کا فائدہ تو کچھ نہیں ہوتا لیکن اس طرح بہت سا روپیہ ضائع ہو جاتا ہے۔چاہیئے یہ کہ جو اشتہارات مرکز سے شائع کئے جائیں انہیں تقسیم کیا جائے اور ان کی اشاعت بڑھائی جائے۔خود اشتہارات شائع کرنے میں بعض اوقات خود پسندی بھی آجاتی ہے کہ میرا نام بھی نکلے اور یہ ایسا سخت مرض ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس کے متعلق ایک قصہ بیان فرمایا کرتے تھے جو یہ ہے کہ ایک عورت تھی اُس نے انگوٹھی بنوائی مگر کسی عورت نے اُس کی تعریف نہ کی۔ایک دن اُس نے اپنے گھر کو آگ لگا دی اور جب لوگ اکٹھے ہوئے تو کہنے لگی صرف یہ انگوٹھی بچی ہے اور کچھ نہیں بچا۔کسی نے پوچھا یہ کب بنوائی ہے؟ کہنے لگی اگر یہ کوئی پہلے پوچھ لیتا تو میرا گھر ہی کیوں جلتا۔غرض شہرت پسندی ایسا مرض ہے کہ جس کو لگ جائے اُسے گھن کی طرح کھا جاتا ہے اور ایسے انسان کو پتہ ہی نہیں لگتا۔اس سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ مرکز سے جو اشتہارات آئیں انہیں شائع کیا جائے۔ہاں اگر کسی کے ذہن میں کوئی اچھی اور مفید بات آئے تو لکھ کر مرکز میں بھیج دئے یہاں سے وہ شائع ہو جائے گی۔ان امور کے علاوہ تبلیغ میں تین باتیں مدنظر رکھنی چاہئیں۔اول : یہ کہ تبلیغ ہر طبقہ کے لوگوں میں ہو۔بہت دوست اس بارے میں سستی سے کام لے رہے ہیں۔بڑے زمینداروں، وکلاء اور حکام کا طبقہ اس بارے میں غافل ہے۔ایسا نہیں ہونا چاہیئے بلکہ ہر طبقہ میں تبلیغ کرنی چاہیئے۔