انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 226 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 226

۲۲۶ انوار العلوم جلد ۱۳ اہم اور ضروری امور تیسرا فائدہ جلسوں کا یہ ہوتا ہے کہ جماعت کومل کر کام کرنے کی عادت اور اہلیت پیدا ہوتی ہے۔جلسہ کیلئے جلسہ گاہ تیار کرنا ضروری سامان بہم پہنچانا اشتہارات تقسیم کرنا وغیرہ ایسے کام ہیں جو مل کر اور متحدہ طور پر کرنے پڑتے ہیں اور اس طرح کام کرنے کی عادت پیدا ہوتی ہے۔چوتھا فائدہ یہ ہے کہ مخالفت کے برداشت کرنے کا مادہ پیدا ہوتا ہے۔جب کسی جگہ جلسہ کیا جا تا ہے تو لوگ کہتے ہیں اچھا اب یہ اس طرح علی الاعلان تبلیغ کرنے لگے ہیں۔اس طرح وہ مخالفت کیلئے کھڑے ہو جاتے ہیں اور احمدیوں کو ان کی مخالفت برداشت کرنی پڑتی ہے۔پانچواں فائدہ یہ ہے کہ بعض اوقات جلسوں میں صبر کا مظاہرہ کرنے کا بھی موقع مل جاتا ہے۔لوگ گالیاں دیتے ہیں، پتھر مارتے ہیں اور لاٹھیوں وغیرہ سے حملہ کرتے ہیں جیسا کہ سیالکوٹ اور امرتسر میں ہوا۔اس کے مقابلہ میں جب احمدی صبر سے کام لیتے اور استقلال دکھاتے ہیں تو لوگوں کے قلوب اس سے متاثر ہوتے ہیں اور وہ احمد بیت کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔پھر جلسوں کے علاوہ تبلیغی اشتہارات شائع کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ سب لوگ جلسوں میں نہیں آ سکتے لیکن اشتہارات ان تک پہنچائے جاسکتے ہیں اور وہ انہیں گھر بیٹھے پڑھ سکتے ہیں۔خصوصاً پڑھے لکھے لوگوں کو اشتہارات سے زیادہ فائدہ پہنچتا ہے۔قرآن کریم سے پتہ لگتا ہے کہ بعض طبائع ایسی ہوتی ہیں کہ فرداً فرداً غور کرنے سے فائدہ اُٹھاتی ہیں ایسے لوگوں کو جب اشتہارات پہنچائے جاتے ہیں اور وہ ان پر غور کرتے ہیں تو متا ثر ہو جاتے ہیں اور دشمن کے اُن تک پہنچنے سے پہلے پہلے اُن کے دل میں نیکی قائم ہو جاتی ہے۔پھر مخالف خواہ انہیں دھوکا دینے کے لئے کچھ کہیں اس کا اُن پر اثر نہیں ہوتا۔پھر بیمار اور بوڑھے لوگ جو جلسہ میں نہیں آ سکتے اشتہارات کے ذریعہ اُن تک بھی بات پہنچ جاتی ہے اور بیماروں پر حق وصداقت کا اثر بہت جلدی ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ایک طبیب نے پوچھا میں کیا خدمت دین کروں ؟ تو آپ نے فرمایا آپ بیماروں کو تبلیغ کیا کریں یہ بہت اچھا موقع ہوتا ہے کیونکہ بیمار کا دل نرم ہوتا ہے۔پھر اشتہاروں کے ذریعہ تبلیغ بڑھتی اور پھیلتی جاتی ہے۔ایک دفعہ میں نے کہا تھا کہ اشتہارت اس لا پرواہی کے ساتھ تقسیم کئے گئے کہ ایک تبلیغی اشتہار میں پڑیا بندھ کر میرے پاس آئی۔یہ بات معیوب ہے مگر بعض دفعہ اس غلطی سے بھی فائدہ ہو جاتا ہے۔چنانچہ ایک شخص نے مجھے بتایا کہ وہ پڑیا کے کاغذ کے ذریعہ ہی احمدی ہوا۔پڑیا کے کاغذ کو دیکھ کر اُس نے پڑھنا شروع