انوارالعلوم (جلد 13) — Page 218
۲۱۸ انوار العلوم جلد ۱۳ اہم اور ضروری امور فارغ نہیں ہوئے۔ان کا علمی مذاق ہے اب انہیں تبلیغ کا کام کرنے کا زیادہ موقع ملے گا۔اس وقت تک صوبہ سرحد کے احمدی اشاعت احمدیت میں پنجاب کے احمدیوں کے قدم بقدم چلتے رہے ہیں۔امید ہے کہ اب بھی وہ پیچھے نہ رہیں گے بلکہ ترقی کرنے کی کوشش کریں گے۔سرحد کے متعلق عام رپورٹوں سے پتہ لگتا ہے کہ باوجود اس کے کہ سرحدی لوگوں کی طبائع سخت ہوتی ہیں، وہ احمدیت کی طرف زیادہ متوجہ ہو رہے ہیں۔بلکہ پنجاب کے بعض علاقوں سے بھی زیادہ متوجہ ہو رہے ہیں سوائے ہزارہ کے علاقہ کے وہاں سرحد کی نسبت زیادہ امن قائم ہے مگر خدا تعالیٰ رحم کرے وہاں کے احمدیوں پر کہ وہ تبلیغ کرنے سے ڈرتے رہتے ہیں۔بنگال میں بھی خاصی ترقی ہو رہی ہے۔وہاں ایک ایسی سکیم کے ماتحت کام ہو رہا ہے کہ وہ سکیم کا میاب ہو گئی تو کم از کم پچاس ہزار آدمی چند مہینے میں سلسلہ میں داخل ہو جائے گا۔وہاں جو لوگ احمدی ہو رہے ہیں، ان میں بڑے بڑے معزز اصحاب بھی ہیں۔ایک صاحب نے جو پہلے ایم۔ایل سی تھے بیعت کی ہے اب کے وہ ایک خاص وجہ سے امیدوار کھڑے نہ ہوئے آئندہ کھڑے ہوں گے۔پھر بیعت کرنے والوں میں ڈاکٹر اور اعلی تعلیم یافتہ لوگ بھی ہیں۔البتہ جنوبی ہند میں سستی پائی جاتی ہے۔حیدر آباد میں پرانی جماعت ہے، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ کی جماعت ہے مگر بحیثیت تبلیغ بہت پیچھے ہے۔البتہ بحیثیت فرد دوسری جماعتوں کو چیلنج دے سکتی ہے۔سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب اس جماعت میں ایک ایسے فرد ہیں کہ جنہیں دیکھ کر مجھے دوہری خوشی حاصل ہوتی ہے۔ایک خوشی تو ان کی تبلیغی خدمات کو دیکھ کر حاصل ہوتی ہے اور دوسری خوشی اس لئے کہ ان کے بیعت کرنے سے پہلے شیخ یعقوب علی صاحب نے مجھے لکھا تھا کہ سکندرآباد میں ایک مخیر سیٹھ ہیں جو احمدیت کی طرف مائل ہیں دعا کریں کہ وہ احمدیت میں داخل ہو جائیں۔اُس وقت میں نے دعا کی اور رویا دیکھا کہ ایک تخت بچھا ہے جس پر سیٹھ صاحب بیٹھے ہیں۔رویا میں میں نے اُن کی جو شکل دیکھی تھی، بعینہ وہی شکل تھی جو میں نے اُس وقت دیکھی جب وہ مجھے ملے۔اس وقت آسمان سے کھڑ کی کھلی اور میں نے دیکھا فرشتے سیٹھ صاحب پر نور پھینک رہے ہیں۔ان کے بیعت کرنے پر مجھے خوشی ہوئی کہ میرا خواب پورا ہو گیا۔وہ اتنا وقت اور اتنا روپیہ تبلیغ احمدیت کے لئے صرف کرتے ہیں کہ کوئی اور فرد نہیں کرتا۔تبلیغ احمدیت کے متعلق ان کا جوش ایسا ہے جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پرانے صحابہ مولوی برہان الدین صاحب وغیرہ میں تھا۔اور خدا کی راہ میں مال خرچ کرنے کا جوش اس طرح ہے جیسے سیٹھ عبد الرحمن