انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 216 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 216

انوار العلوم جلد ۱۳ ۲۱۶ اہم اور ضروری امور ہو رہی ہے۔برکتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی حاصل ہوتی ہیں۔مولوی رحمت علی صاحب طالب علمی کے زمانہ میں اور اب بھی اتنے سادہ ہیں کہ لوگ عام طور پر ان کی باتوں پر ہنس پڑتے ہیں۔پیچھے جب وہ یہاں آئے اور ایک موقع پر انہوں نے تقریر کی تو پہلے تو میں نے ضبط کیا، لیکن پھر مجھے بھی ہنسی آگئی۔وہ کسی شخص کا ذکر کرتے ہوئے عالم کی بجائے ”علماء“ کا لفظ استعمال کرتے تھے۔یعنی اس علماء نے یہ کہا۔جب دس بارہ بار انہوں نے اسی طرح کہا تو میں نے پوچھا مولوی صاحب آپ یہ کیا کہتے ہیں کہنے لگے پرانی عادت کی وجہ سے یہ لفظ منہ سے نکل جاتا ہے۔غرض وہ بہت سادہ ہیں مگر وہ جہاں جہاں بھی گئے، وہاں عظیم الشان تغیر پیدا کر دیا اور لوگ یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہو گئے کہ ان کا مقابلہ اُن کے علماء نہیں کر سکتے۔کچھ عرصہ ہوا۔یہاں ڈچ کانسل (DUTCH COUNCIL) مجھے ملنے کے لئے آیا۔اُس نے بھی مجھ سے یہ ذکر کیا کہ مولوی رحمت علی بہت بڑا عالم ہے وہاں کا ایک پادری یہاں آیا اُس نے بھی یہی کہا۔بات اصل میں یہ ہے کہ مولوی رحمت علی صاحب اپنے آپ کو بیچ سمجھ کر اللہ تعالی کے حوالے کر دیتے ہیں اور پھر اُس کی راہ میں کام کرتے ہیں۔اس پر خدا تعالیٰ اپنی خاص برکتیں نازل کرتا اور ہر موقع پر ان کو کامیابی عطا کرتا ہے۔انہوں نے پہلے سماٹرا میں ایک بہت بڑی جماعت قائم کی اب وہ جاوا بھیجے گئے۔یہ تعلیم یافتہ علاقہ ہے مولوی صاحب اگر چہ اس علاقہ کی زبان سے ناواقف تھے مگر باوجود اس کے گزشتہ تین ماہ کے اندر انہوں نے تین زبر دست مباحثے کئے ہیں ان کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ دو جگہ بڑی زبر دست جماعتیں قائم ہوگئی ہیں۔یہاں ہندوستان میں ایک شہر میں ایک مبلغ دو دو سال تک تبلیغ کرتا رہتا ہے تو ایک دو احمدی ہوتے ہیں مگر وہاں بوگر اور بٹاو یہ دو مقامات میں تھوڑے عرصہ میں بڑی بڑی جماعتیں پیدا ہو گئی ہیں۔جن کی تعداد دو دو اڑھائی اڑھائی سو افراد کے قریب ہے۔اور وہ لوگ تعلیم یافتہ ہیں مگر مولوی رحمت علی صاحب جب آئیں گے تو پھر بھی ویسے ہی سادہ ہونگے جیسے پہلے تھے۔ان کے مباحثات کا ذکر جب غیر احمدی اخبارات میں چھپتا ہے، تو بہت تعریف کی جاتی ہے۔وہ لکھتے ہیں: مولوی رحمت علی صاحب مباحثہ میں اس طرح بولتے ہیں جس طرح آسمان سے گرج کی آواز آتی ہے۔ان کے مقابلہ میں ہمارے بیس ہیں اور تہیں تھیں مولوی تھراتے اور کانپتے ہیں۔وہ اخبارات مولوی رحمت علی صاحب کا اس طرح ذکر کرتے ہیں کہ گویا وہ جماعت احمدیہ کے تمام علماء کا نچوڑ ہیں۔یہ اُس اخلاص اور بے نفسی کا نتیجہ ہے جس سے مولوی صاحب کام کرتے ہیں مجھے یہ پڑھ کر