انوارالعلوم (جلد 13) — Page 211
۲۱۱ انوار العلوم جلد ۱۳ اہم اور ضروری امور اُٹھا کہ آنے والوں کو روزہ رکھنا چاہئے یا نہیں تو ایک صاحب نے بتایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں جب جلسہ رمضان میں آیا تو ہم نے خود مہمانوں کو سحری کھلائی تھی ان حالات میں جب میں نے یہاں جلسہ پر آنے والوں کو روزہ رکھنے کی اجازت دی تو یہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ہی فتویٰ ہے۔پہلے علماء تو سفر میں روزہ رکھنا بھی جائز قرار دیتے رہے ہیں اور آج کل کے سفر کو تو غیر احمدی مولوی سفر ہی نہیں قرار دیتے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے سفر میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا۔پھر آپ نے ہی یہ بھی فرمایا کہ یہاں قادیان میں آکر روزہ رکھنا جائز ہے۔اب یہ نہیں ہونا چاہئے کہ ہم آپ کا ایک فتوی تو لے لیں اور دوسرا چھوڑ دیں۔اس طرح تو وہی بات بن جاتی ہے جو کسی پٹھان کے متعلق مشہور ہے۔پٹھان فقہ کے بہت پابند ہوتے ہیں۔ایک پٹھان طالب علم تھا جس نے فقہ میں پڑھا تھا کہ نماز حرکت کبیرہ سے ٹوٹ جاتی ہے۔جب اُس نے حدیث میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق پڑھا کہ آپ نے ایک دفعہ حرکت کی تو کہنے لگا اوہ ! رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نماز ٹوٹ گیا۔کیونکہ قدوری میں لکھا ہے کہ حرکت کبیرہ سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔غرض جس نے یہ فتویٰ دیا کہ سفر میں روزہ نہیں رکھنا چاہئے، اُسی نے یہ بھی فرمایا کہ قادیان احمدیوں کا وطن ثانی ہے، یہاں روزہ رکھنا جائز ہے۔اس لئے یہاں روزہ رکھنا آپ ہی کے فتویٰ کے مطابق ہوا گو اس کی اور بھی وجوہات ہیں مگر انہیں بیان کرنے کا یہ وقت نہیں ہے۔میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا فتوی بیان کر دیا ہے۔ایک اور بات میں اس بارے میں بتا دیتا ہوں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ایک دفعہ جب کہ رمضان کے آخری دن چاند نہ دیکھا جا سکا اس پر آپ کو یہ الہام ہوا۔عید تو ہے چاہے کرو یا نہ کرو۔اس پر بعض نے روزہ توڑ دیا کہ جب آج عید ہے تو روزہ رکھ کر کیوں شیطان بنیں۔لیکن بعض نے کہا جب خدا تعالیٰ نے الہام میں کہہ دیا ہے کہ عید تو ہے چاہے کرو یا نہ کرو اور ادھر شریعت کا حکم یہ ہے کہ چاند دیکھ کر عید کرو تو کیوں نہ روزہ رکھا جائے۔دوسرے کہتے جب خدا تعالیٰ نے بتا دیا ہے کہ عید ہے تو عید کے ہونے میں کیا شک رہ گیا اور کیوں روزہ رکھا جائے۔دونوں فریق نے یہ معاملہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں پیش کیا اور ایک دوسرے کے متعلق بتایا۔آپ نے فرمایا۔جب خدا تعالیٰ نے کہا کہ آج عید ہے تو جنہوں نے آج روزہ توڑ دیا میں انہیں کیا کہوں اور دوسرے جنہوں نے روزہ نہیں تو ڑا چونکہ