انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 19 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 19

انوار العلوم جلد ۱۳ ۱۹ دنیا میں سچا مذہب صرف اسلام ہی ہے لئے کہ وہ اس میں بھی اپنے لئے دلچسپی اور فخر کے سامان پیدا کرنا چاہتا تھا۔ غرض عرب با وجود دنیا کی ترقی کے اور باوجود اُس وقت کی روز بر دست تہذیبوں کے درمیان گھرے ہونے کے اپنی جگہ پر کھڑا تھا اور رومی اور ایرانی ترقی اس پر بالکل اثر نہ ڈال سکتی تھی ۔ ایک غلطان غلط استنباط کہا جاتا ہے کہ اس ملک اور اس تہذیب میں محمدرسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پیدا ہونا اور نشو و نما پانا دلالت کرتا ہے کہ وہ مذہب ا جو انہوں نے دنیا کے سامنے پیش کیا ، اسی قسم کے لوگوں کی اصلاح کیلئے مفید ہو سکتا ہے ۔ وہ یقیناً تہذیب اور شائستگی اور روحانی پاکیزگی کی طرف لانے والا تھا مگر ان ہی لوگوں کو جو انسانیت کے ابتدائی مدارج کو طے کر رہے ہوں ۔ وہ ان لوگوں کے لئے جو ہزاروں سالوں کی کوششوں کے بعد تہذیب اور شائستگی اور اخلاق کے مفہوم کو نہایت وسیع کر چکے تھے ہرگز مفید نہیں ہوسکتا۔ ہاں اس مفہوم کو سمجھنے کی قابلیت پیدا کر دینے میں بے شک کارآمد ثابت ہوا ہے اور آئندہ ایسے ہی لوگوں کو جو عربوں کی طرح کے ہوں ، تہذیب واخلاق کی طرف کھینچ لانے میں ایک مفید آلہ کا کام دے سکتا ہے۔ اسلام اور تدریجی ترقی وہ کہتے ہی کہ کیا علم ارتقا سے نہیں یہی بات معلوم نہیں ہوئی کہ ہر ایک چیز جس جگہ پیدا ہوتی ہے وہ اپنی اردگرد کی چیزوں سے ہی مناسبت رکھتی ہے اور یہ کہ ارتقاء کے ساتھ مدارج کی پابندی لگی ہوئی ہے۔ ایک درجہ کے بعد اس کے آگے کا درجہ بھی طے کیا جاتا ہے نہ کہ بیچ کے درجے چھوڑ کر اوپر کے درجوں کو حاصل کیا جاتا ہے۔ پس اسلام ایک اچھا مذہب ہے مگر ابتدائی حالت کے لوگوں کیلئے نہ کہ ترقی یافتہ لوگوں کیلئے ۔ ہمارے نزدیک ان لوگوں کی یہ اسلام اُس وقت کے حالات کا نتیجہ نہیں بات تو درست ہے کہ اسلام است وقت آیا ہے جب عرب کی حالت کیا بلحاظ اخلاق کے اور کیا بلحاظ علم کے بالکل گری ہوئی تھی اور ہم اس بات کو بھی تسلیم کرتے ہیں کہ مسئلہ ارتقاء کے ماتحت ترقی اپنے دائرہ کے اندر اور گرد و پیش کے حالات کے مطابق ہونی چاہئے لیکن ہمارے نزدیک ان کا یہ نتیجہ نکالنا درست نہیں کہ اسلام صرف عربوں یا انہی کی طرح کے اور لوگوں کے لئے مفید تھا کیونکہ یہ نتیجہ تب نکالا جا سکتا ہے جب کہ اسلام کو اُس وقت کے حالات کا نتیجہ قرار دیا جائے مگر اسلام اُس وقت کے حالات کا نتیجہ نہیں بلکہ