انوارالعلوم (جلد 13) — Page 197
۱۹۷ مستورات سے خطاب انوار العلوم جلد ۱۳ بسم اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ مستورات سے خطاب (فرموده ۲۷ دسمبر ۱۹۳۳ء بر موقع جلسه سالانه) تشہد ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فر مایا:۔سیدہ فضیلت بیگم صاحبہ کی آواز چونکہ بلند ہے اس لئے وہ سٹیج کے چاروں طرف کہہ دیں کہ چونکہ میں ابھی کل ہی انفلوئنزا کے باعث بستر سے اُٹھا ہوں اس لئے بلند آواز سے نہیں بول سکوں گا اگر وہ خاموشی سے سُن لیں تو بہتر ہے۔جن کو آواز نہ پہنچے وہ بھی اگر خاموشی سے سنیں گی اور تقریر کے دوران خاموش رہیں گی تو کم از کم ثواب ہی حاصل کریں گی۔فرمایا:۔ہر زمانہ میں جو گزرا ہے مرد ہو یا عورت یہ خیال کرتے رہے کہ اپنے آپ کو بلند مرتبہ یا بڑائی کے اظہار کیلئے خوبصورت بنائے رکھیں اور نہیں تو اپنے جسم کو ہی سُرمہ سے گود دیں یا عمارتیں ایسی بلند بنا ئیں کہ خوبصورتی اور تفاخر کا اظہار ہو اور اسی کو فخر یا بلندی مرتبہ کا معیار رکھا۔چنانچہ دہلی، بغدادا اور قرطبہ وغیرہ میں ایسی عمارتیں بکثرت تھیں اور ہیں۔بعض گانا بجانا ہی خوبی سمجھتے تھے بعض ممالک میں لباس اعلیٰ اور خوبصورت پسند کیا جاتا تھا۔چنانچہ بعض لوگ شلوار میں ۴۰ ، ۵۰ گز کی پہنتے تھے۔ایک زمانہ ہندوستان پر بھی ایسا آیا کہ لباس تفاخرانہ پہنتے اور موجودہ شلواروں یا پاجاموں کو بُرا جانتے تھے مگر رفتہ رفتہ فیشن اور کا اور ہو گیا۔غرض ہر زمانہ میں کوئی نہ کوئی بڑائی اور نئی ایجاد کا طریقہ نکلتا رہا۔چنانچہ آجکل ہمارے ملک میں بھی اعلیٰ تعلیم پانے کا فیشن ہے اور ڈگریاں حاصل کرنے کا بھی۔میں نہیں سمجھتا کہ سکندر یا تیمور کوملک فتح کرنے کا اتنا شوق ہو گا جتنا کہ آج کل کے ماں باپ لڑکیوں کو اعلیٰ ڈگریاں دلانے کے شائق ہیں۔یہ ایک فیشن ہو گیا ہے