انوارالعلوم (جلد 13) — Page 191
۱۹۱ انوار العلوم جلد ۱۳ افتتاحی تقریر جلسه سالانه ۱۹۳۳ء کیا ہے۔مجھے چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے اُس کے تعلقات کا علم تھا میں نے اُسے محبت سے بٹھایا اور پوچھا کیا ہوا ہے، آپ بیان کریں اگر میری جماعت کے کسی شخص نے آپ کو کسی قسم کی تکلیف اور دُکھ دیا ہے تو میں اُسے سزا دوں گا۔میرے یہ کہنے پر اُس نے جودُ کھ بتا یا وہ یہ تھا کہ میں مرزا صاحب کی قبر پر متھا ٹیکنے کیلئے گیا تھا مگر مجھے متھا نہیں ٹیکنے دیا گیا۔میں نے کہا ہمارے ہاں یہ شرک ہے اور ہم اس کی اجازت نہیں دے سکتے۔اُس نے کہا اگر آپ کے مذہب میں یہ بات نا جائز ہے تو آپ نہ کریں مگر میرے مذہب سے آپ کو کیا واسطہ۔مجھے کیوں نہ متھا ٹیکنے دیا جائے۔جب اُس کا جوش ٹھنڈا ہوا تو کہنے لگا۔ہمارا آپ کے خاندان سے پرانا تعلق ہے میرا باپ بھی آپ کے دادا صاحب کے پاس آیا کرتا تھا، ایک دفعہ جب وہ آیا تو میں اور میرا ایک بھائی بھی ساتھ تھے اُس وقت ہم چھوٹی عمر کے تھے۔آپ کے دادا صاحب اُس وقت افسوس سے میرے باپ کو کہنے لگے مجھے بڑا صدمہ ہے اب میری موت کا وقت قریب ہے میں اپنے اس لڑکے کو بہت سمجھا تا ہوں کہ کوئی کام کرے مگر یہ کچھ نہیں کرتا۔کیا میرے مرنے کے بعد یہ اپنے بھائی کے نگڑوں پر پڑا رہے گا ؟ پھر کہنے لگے لڑکے لڑکوں کی باتیں مان لیتے ہیں اور ہم دونوں بھائیوں سے کہا تم جا کر اسے سمجھاؤ اور پوچھو کہ اُس کی مرضی کیا ہے؟ ہم دونوں بھائی گئے دوسرے بھائی کو تو میں نے نہیں دیکھا وہ پہلے فوت ہو چکا تھا مگر جس نے یہ بیان کیا وہ مجھ سے ملتا رہتا تھا، اُس نے بتایا ہم آپ کے والد صاحب کے پاس گئے اور جا کر کہا کہ آپ کے باپ کو شکوہ ہے کہ آپ کوئی کام نہیں کرتے نہ کوئی ملازمت کرنا چاہتے ہیں اس سے اُن کے دل پر بہت صدمہ ہے۔آپ ہمیں بتا ئیں آپ کا ارادہ کیا ہے؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ بات سن کر فر ما یا۔بڑے مرزا صاحب خواہ مخواہ فکر کرتے ہیں میں نے جس کا نوکر ہونا تھا اُس کا نوکر ہو چکا ہوں۔ہم نے آ کر بڑے مرزا صاحب سے کہہ دیا کہ وہ تو یہ کہتے ہیں کہ مجھے جس کا نوکر ہونا تھا، ہو چکا۔اس پر آپ کے دادا صاحب نے کہا اگر وہ کہتا ہے تو ٹھیک کہتا ہے۔پھر جب دادا صاحب فوت ہو گئے تو باوجود اس کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی توجہ دین کی طرف اس قدر تھی کہ بڑے بھائی سے جائداد وغیرہ کے متعلق کوئی سوال نہ کیا۔آپ دن رات مسجد میں پڑے رہتے۔میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے سنا۔آپ فرمایا کرتے تھے اُن دنوں میں بھنے ہوئے چنے اپنے پاس رکھ لیا کرتا اور آخری عمر تک باوجود یکہ بڑھا پا آ گیا تھا آپ کو چنوں کا شوق رہا اور شاید یہ ورثہ کا شوق ہے جو مجھے بھی ہے اور مجھے -