انوارالعلوم (جلد 13) — Page 185
انوار العلوم جلد ۱۳ ۱۸۵ أسوة كامل میر صاحب اور دونوں تہذیب اور وضع داری میں مشہور ہیں۔کہتے ہیں کہ کسی موقع پر ایک لکھنوی میر صاحب اور دہلوی مرزا صاحب سٹیشن پر اکٹھے ہو گئے اب دونوں نے خیال کیا کہ اپنی تہذیب کا پوری طرح مظاہرہ کرنا چاہیئے ایسا نہ ہو کہ دوسرا بد تہذیب سمجھے اور اس لئے گاڑی کے سامنے کھڑے ہو کر میر صاحب کہہ رہے ہیں کہ حضرت میرزا صاحب سوار ہو جیئے اور ساتھ جھکتے بھی جاتے ہیں۔اور میر صاحب اس سے بھی زیادہ جھک کر کہہ رہے ہیں کہ آپ تشریف رکھیئے میں ناچیز پیش قدمی کرنے کا حقدار نہیں۔لوگ گاڑی میں سامان لا دتے اور بیٹھتے جاتے ہیں۔مگر یہ دونوں دروازے کے سامنے کھڑے اپنی تہذیب کے جو ہر دکھا رہے ہیں۔لیکن جونہی گاڑی نے سیٹی بجائی ایک نے دوسرے کو وہ دھگا دیا کہ کمبخت آگے سے نہیں ہلتا گھنے بھی دیگا یا نہیں۔تو جہاں قربانی کا موقع آتا ہے سب تہذیب دھری کی دھری رہ جاتی ہے۔مگر رسول کریم ﷺ نے نقصان اُٹھا کر ایک بدلہ رحیمیت کا نقصان اُٹھا کر بدلہ دیا ہے۔ہر نبی نے آپ کے متعلق پیشگوئی کی ہے اور کہا ہے کہ ایک ایسا شخص آئے گا اور لوگوں نے ان سے فائدہ اُٹھایا ہو گا۔اول تو اسلام کی تعلیم کو دیکھ کر مسلمان ہونے والوں کے مقابلہ میں ان لوگوں کی تعداد جو ایسی پیشگوئیوں کی وجہ سے ایمان لائے بہت ہی کم ہے۔رسول کریم ﷺ نے اپنی تعلیم اور حسنِ اخلاق سے جن لوگوں کو کھینچا؟ ان کی تعداد بہت زیادہ ہے۔مگر پھر بھی آپ نے اپنا نقصان کر کے اس کا بدلہ ادا کیا ہے کیونکہ اگر اس بات کو تسلیم کر لیا جائے کہ پہلے انبیاء بھی راستباز تھے تو یہ جھگڑا پیدا ہو جاتا ہے کہ پھر آپ کی کیا ضرورت تھی۔اگر آپ یہ کہہ دیتے کہ پہلے سب چور اور بٹما ر تھے اور میں نبی ہوں کیونکہ دنیا کو ایک نیک راہ نما کی ضرورت تھی تو آپ کے لئے بہت آسانی رہتی۔مگر نہیں، آپ نے اس احسان کا بدلہ دینے کے لئے فرمایا کہ اِنْ مِنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيرٌ " ان نبیوں کے کہنے سے تو شاید اب ہیں یا سو دو سو لوگ ہی داخلِ اسلام ہوئے ہونگے مگر آپ نے کروڑ ہا انسانوں سے ان کی تقدیس منوا دی اور اس طرح اس معمولی سے احسان کا اتنا شاندار بدلہ دیا اور خود نقصان اُٹھا کر دیا۔خود ان کی قوموں نے ان پر اعتراض کئے مگر آپ نے ان کو دور کیا اور فرمایا کہ ان میں عیب ظاہر کر نے والا خود عیبی ہے۔غرباء کو بدلہ انبیاء کی جماعتوں میں پہلے ہمیشہ غربا ء ہی داخل ہوتے ہیں چنا نچہ ہرقل نے بھی ابوسفیان سے یہی پوچھا تھا کہ فَأَشْرَافُ النَّاسِ يَتَّبِعُونَهُ