انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 184 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 184

انوار العلوم جلد ۳ ۱۸۴ أسوة كامل خزانہ ہو مگر اسے کوئی علم تک نہ ہو تو اس سے اس کو کیا فائدہ ہوگا۔پس قو تیں تو سب میں موجود ہیں اور خدا تعالیٰ نے ہر دماغ میں الہام پانے کی قابلیت رکھی ہے۔مگر یہ ملتا اُمید اور توکل کے نتیجہ میں ہے اور آپ نے ساری دنیا کے اندر اسکی امید پیدا کی کہ اس کے لئے اب بھی الہام کا دروازہ کھلا ہے۔اور یاد رکھنا چاہیئے کہ الہام کے لئے امید اور تو کل ہی دروازہ ہے۔خدا تعالیٰ اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہی اس سے سلوک کرتا ہے۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے فرمایا ہے۔اَنَا عِندَ ظَنِّ عَبْدِی بی 10 یعنی میرا بندہ میرے متعلق جیسا گمان ۲۵ کرتا ہے، میں اس سے ویسا ہی سلوک کرتا ہوں۔اگر وہ کہتے ہیں کہ الہام کا دروازہ بند ہے تو میں بھی کہتا ہوں کہ اچھا بند ہی سہی۔اور اگر وہ کہتے ہیں کہ ہم خدا سے مل کر رہیں گے تو ہم بھی کہتے ہیں کہ اچھا آ ؤمل لو۔آپ نے یہ روحانی امید دلائی اور توکل کا دروازہ کھول دیا۔جسمانی طور پر بھی اس کی ایک مثال پیش کرتا غرباء کی امداد کا مکمل انتظام ہوں۔سب مذاہب نے صدقہ و خیرات کا حکم دیا ہے مگر جب تک ایک نظام کے ماتحت یہ کام نہ ہو مکمل نہیں ہوسکتا۔ہر کوئی کہہ دے گا کہ اچھا دیدیں گے کب دیں گئے کیا دیں گئے اس کے متعلق کوئی علم نہیں مگر رسول کریم ﷺ نے اس کے متعلق ایسے قوانین دیئے ہیں کہ ہر وہ شخص جس میں طاقت اور استطاعت ہے، مجبور ہے کہ ان محتاجوں کے لئے جن کے کام کرنے کے سامان نہیں، ہر سال ایک مقررہ رقم ادا کرے جو ایک جگہ جمع ہو اور جو جملہ محتاجوں میں تقسیم کر دی جائے۔اس طرح غرباء کو اوپر اٹھایا جائے۔اور یہ بھی رحمانیت کے ماتحت کام ہے۔وقت نہیں وگر نہ اگر اس کی تفصیلات بیان کی جائیں تو معلوم ہو کہ آپ نے اس سے کس طرح چوری، ڈاکہ اور فسادات وغیرہ کا دروازہ بند کر دیا۔تیسری صفت رحیمیت ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ کام کا صفت رحیمیت کا مظہر اسم اعلی سے اعلی بدلہ دیا جائے۔اچھے لوگ ہمیشہ ایک دوسرے کے احسانات کا بدلہ دیا کرتے ہیں۔مثلاً ایک شخص دوسرے کو کہتا ہے جناب والا تو وہ کوشش کرے گا کہ جواب میں اس کا بدلہ ادا کرے اس لئے کہے گا آئے تشریف لائیے سر آنکھوں پر آئے۔ایک کہتا ہے آپ بہت اچھے آدمی ہیں۔دوسرا کہتا ہے میں کیا ہوں آپ کا مقابلہ میں کسی طرح بھی نہیں کر سکتا۔مگر یہ تہذیب اسی حد تک ہے کہ اپنا نقصان نہ ہو جب ذاتی نقصان کا موقع ہو تو سب کچھ بھول جاتا ہے۔دہلی والے میرزا صاحب کہلاتے ہیں اور لکھنوی