انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 181 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 181

انوار العلوم جلد ۱۳ ۱۸۱ أسوة كامل کئے۔لڑکی کے لئے کیا حد بندیاں اور لڑکے کے لئے کیا ہیں۔انہیں اپنی شادی بیاہ کے معاملہ میں کہاں تک آزادی ہے اور کہاں تک پابندی ہے۔بھائی بہن کے کیا تعلقات ہیں۔پھر دنیا میں لوگ عام طور پر جو کام کرتے ہیں، ان کے دنیوی امور میں ربوبیت متعلق بھی تفصیلی احکام دیئے۔آپ نے بتایا کہ تجارت میں دھوکا نہیں کرنا چاہیئے لالے ، لین دین عارضی اور مستقل کے علیحدہ علیحدہ احکام بیان فرمائے۔رہن اور بیج کے واسطے مفصل ہدایات دیں۔غرض ان تمام ضرورتوں کے لئے آپ نے احکام دئیے۔انسان جب بوڑھا ہوتا ہے تو بچوں کو اس کے ساتھ کیسا سلوک کرنا چاہیئے اور بتایا کہ بوڑھے ماں باپ کو اُف تک نہ کہو۔" پھر موت کا وقت ہوتا ہے اس کے لئے بھی احکام مرنے والے کی ربوبیت دیئے اور بتایا کہ وہ انسان کا آخری وقت ہوتا ہے۔اس وقت اپنے تھوڑے سے فائدہ کے لئے مرنے والے کی عاقبت خراب نہ کرو۔اسے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا کرنے اور اس کی طرف متوجہ ہونے کا موقع دو۔تمہارے بچوں کا کیا حال ہو گا بیوی کیا کرے گی ایسے سوالات سے ان قیمتی لمحات کو ضائع نہ کرو بلکہ اس کے سامنے قرآن کریم کی آیات اور سورہ یسین پڑھو۔اس کے بعد اپنی تکالیف کا خود انتظام کر لینا اور ان کا ذکر کر کے اس کے آخری وقت کو خراب نہ کرو۔پھر فرمایا کہ اگر کسی کی جائداد ہو تو چاہیئے کہ وہ اس کے لئے پہلے سے وصیت کر رکھے گکھتا اس وقت یہ باتیں اسے پریشان نہ کریں۔اور اس پر آپ اس قدر زور دیتے تھے کہ ایک صحابی کہتے ہیں کہ میں ہر روز لکھی ہوئی وصیت سرہانے رکھ کر سوتا تھا شام اور یہ اس لئے حکم دیا ہے کہ تا مرنے والے کی آخری گھڑیاں خراب نہ ہوں اور وہ اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو سکے۔یہ وقت اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ کرنے کا ہوتا ہے تا یہ سلسلہ اُخروی زندگی میں بھی قائم رہے۔اگر کوئی مرتے وقت ہائے میرے بچے ہائے میری بیوی کہتا رہے گا تو اُٹھتے وقت بھی اس کا دھیان اس طرف ہو گا لیکن اگر مرتے وقت ہائے اللہ کہے گا تو اُٹھتے وقت بھی اس کی توجہ اللہ تعالیٰ کی طرف ہی ہو گی۔اس کی مثال ایسی ہے کہ اگر بچہ روٹی کیلئے روتا ہوا سو جائے تو صبح اُٹھتے وقت وہ روٹی کو ہی یاد کر رہا ہو گا۔غرضیکہ رسول کریم اللہ نے انسان کی ان آخری گھڑیوں کو بھی فراموش نہیں کیا۔اور حکم دیا کہ اس وقت اللہ تعالیٰ کی تحمید و تقدیس کی جائے۔