انوارالعلوم (جلد 13) — Page 178
انوار العلوم جلد ۱۳ ۱۷۸ أسوة كامل دنیا کی خوبصورتی اور اس کی کوئی ھے اسے تسلی نہیں دے سکتی جب تک اس کا ہم جنس جوڑا نہ ہو۔جوشِ جوانی میں شہوات عقل پر غالب آ جاتی ہیں اور وہ کہتی نو جوانوں کی ربوبیت ہیں کہ خواہشات کے دریا میں عذاب سے لا پرواہ ہو کر گود پڑ۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ کیا رسول کریم ﷺ نے اس حالت میں انسان کی ربوبیت کی ہے اور جب ہم غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اس کے جوش جوانی کو دیکھ کر اس کی ربوبیت کی ہے۔آپ نے فرمایا کوئی شخص نسب کے لئے شادی کرتا ہے کوئی حسب کے لئے کوئی خوبصورتی کے لئے نکاح کرتا ہے مگر میری نصیحت تمہیں یہ ہے کہ اس کے ساتھ نکاح کرو جو اُخروی زندگی کی ترقی کا موجب ہو نے کیونکہ اگر تم خوبصورتی کو دیکھ کر شادی کرو گے تو تمہاری ساری عمر کے اعمال خوبصورتی کے گرد ہی چکر لگاتے رہیں گے اور بڑے خاندان کی عورت سے شادی کرنے والے کا مطمع نظر تمام عمر یہی رہے گا کہ جس طرح بھی ہو اپنے کو بڑا بنائے۔جس شخص کی شادی کسی ایسے خاندان میں ہو جو معزز سمجھا جاتا ہو تو اس کی ساری کوشش یہی ہوگی کہ دھوکا سے فریب سے جس طرح بھی ہو سکئے اپنی نسل کو کسی پرانے خاندان سے وابستہ کرے۔مسلمانوں میں سید زیادہ معزز سمجھے جاتے ہیں اور ہندوؤں میں برہمن۔اور ایسا انسان ہمیشہ جس طرح بھی ہوا اپنے کو کسی پرانے معزز خاندان کی طرف منسوب کرنے کی کوشش میں لگا رہے گا۔خوبصورتی کا محور ہمیشہ شہوت ہو گا اور حسب و نسب کا دھوکا فریب اور جبر۔اپنے کو کسی معزز خاندان سے منسوب کرنے والوں کے متعلق ایک لطیفہ مشہور ہے۔ایک شخص کسی عدالت میں ادائے شہادت کے لئے گیا اور اپنی قومیت سید بتائی۔اس پر فریق ثانی نے اعتراض کیا عدالت نے اسی فریق کے ایک اور گواہ سے دریافت کیا کہ فلاں آدمی کی قومیت کیا ہے۔اس نے کہا کہ یہ پکا سید ہے اس کا باپ ہمارے سامنے موچی تھا لیکن اس کے سیڈ ہونے کے تو ہم خود گواہ ہیں کیونکہ یہ ہمارے سامنے سید بنا ہے۔تو یہ بالکل بے ہودہ بات ہے۔محض سید کہلانے سے کیا بنتا ہے لیکن لاکھوں آدمی ہیں جو اپنی قومیت بدلنے میں لگے ہوئے ہیں۔تو نسب کی وجہ سے شادی کرنے والے کی زندگی کی بنیاد فریب اور جھوٹ پر ہوگی اور خوبصورتی کی وجہ سے شادی کرنے والے کی بنیاد شہوت پر۔مگر رسول کریم ﷺ نے بتایا ہے کہ اگر آج ہی تمہاری نیت ٹھیک نہیں تو آئندہ کیا ہو گا۔تم نکاح کی بنیاد بھی دین پر رکھو اس صورت میں تمہارے دونوں کام ہو جائیں گے اور تمہارے اعمال بھی دین کے گرد چکر لگا ئیں گے۔