انوارالعلوم (جلد 13) — Page 177
انوار العلوم جلد ۱۳ ۱۷۷ أسوة كامل بھی ساتھ ہی پیدا کر دیتے ہیں ۔ مگر د نیوی حکومتیں ایسا نہیں کرتیں ۔ ایسی ایک دلچسپ مثال ان کی مثال تو یہ ہے کہ کہتےہیں کوئی فن کار کے لئے گیا اور ایک خرگوش مار کر لایا۔ جب گھر کے قریب پہنچا تو خیال کیا کہ میرا کنبہ تو بہت ہے چھوٹے چھوٹے بچے، بہن، بھائی ہیں ایک خرگوش اگر میں گھر لے گیا تو وہ آپس میں لڑیں گے اس لئے بہتر ہے کہ باہر ہی کسی کو دے جاؤں۔ پاس سے کوئی سادھوگزر رہا تھا اس نے سوچا کہ اسے ہی دے جاؤں اور اس خیال سے اسے پوچھا کہ سادھو جی خرگوش کھا لیتے ہو۔ مگر اس کے جواب دینے سے پہلے اسے خیال آیا کہ بچے بوٹیوں پر تو پکنے کے بعد لڑیں گے لیکن اگر میں باہر ہی دے گیا تو گھر پہنچتے ہی سب پوچھیں گے ہمارے لئے کیا لائے اور پھر انہیں کیا جواب دوں گا اس لئے بہتر ہے کہ گھر لے جاؤں ۔ سادھو نے اس کے سوال کے جواب میں کہا کہ ہاں مل جائے تو کھا ہی لیتے ہیں ۔ اس پر وہ کہنے لگا کہ اچھا پھر مار مار کر کھایا کرو۔ تو دنیا کی حکومتوں کی مثال ایسی ہی ہے وہ ساری امیدیں پیدا کرنے کے بعد یہ کہہ دیتی ہیں کہ مار مار کر کھایا کرواسی لئے تعلیم یافتہ نو جوان جن کے متعلق کسی نے کہا ہے کہ :۔ ایم ۔اے بنا کے کیوں میری مٹی خراب کی کہتے ہیں کہ اچھا پھر پہلے تمہیں ماریں گے۔ اور وہی تعلیم یافتہ لوگ جنہیں حکومت نے پڑھا کر ان کے لئے کام کرنے کے سامان مہیا نہیں کئے تھے وہ پھر اسی کے ارکان کو مارنے لگ جاتے ہیں ۔ صلى الله - صفت رب العالمین اور رسول کریم یا تو میں بتا رہا تھا کہ پہلی صفت جو اس سورۃ میں اللہ تعالیٰ کی بیان کی گئی ہے وہ اس کا رَبُّ الْعَالَمِينَ ہوتا ہے۔ جو بندہ رَبُّ الْعَلَمِينَ بنتا ہے، ہم سمجھیں گے کہ وہ کامل ہے۔ اور رسول کریم ﷺ کے متعلق ہم یہ دیکھتے ہیں کہ کیا آپ نے عالم کی ہر تھے پر نگاہ ڈالی ۔ اور اس کے فائدہ کے لئے کام کیا ؟ اگر ڈالی تو ماننا پڑے گا کہ آپ کامل انسان تھے لیکن اگر ہر شے پر آپ کی نگاہ نہیں پڑی اور کوئی حصے ایسے رہ گئے ہیں کہ ان کے لئے آپ نے کوئی کام نہیں کیا تو آپ رَبُّ الْعَالَمِينَ نہیں کہلا سکیں گے۔ اس کے لئے ہم کوئی مثال لیتے ہیں اور چونکہ نسل انسانی زیر بحث ہے اس لئے ہم جوان یعنی بنا بنایا آدمی لیتے ہیں ۔ جسے ہر قوم تسلیم کرتی ہے اور جسے خدا تعالیٰ نے آئندہ نسلوں کا پیج بنایا ہے۔ غور کرنا چاہیئے کہ اس کی پہلی خواہش کیا ہوگی ۔ بائیبل سے بھی ثابت ہے عقل بھی یہی کہتی ہے کہ اسی کی جنس سے جوڑا ہی اسے تسلی دے سکتا ہے۔