انوارالعلوم (جلد 13) — Page 164
انوار العلوم جلد ۱۳ ۱۶۴ رحمة للعالمين تمہارے دل کی کیفیت پہنچتی ہے جو جبر سے نہیں پیدا ہو سکتی ۔ ایک دوسرے کو عبادتگاہوں میں عبادت کرنے سے نہ روکو کہ یہ بہت بڑا ظلم ہے جو خدا کا نام لینا چاہتا ہے خواہ کسی طریق پر نام لئے اسے اجازت دو تا لوگوں میں عبادت کی طرف توجہ ہوا اور لامذہبیت ترقی نہ کرے۔ لوگوں کی عبادتگاہوں کو نہ گراؤ خواہ آپس : راؤ خواہ آپس میں کس قدر ہی ا رہی اختلاف کیوں نہ ہو کیونکہ اس سے کا انہ ہو کیونکہ اس سے ظلم اور فتنہ کی بنیاد رکھی جاتی ہے اور امن کا قائم ہونا لمبے زمانے تک ناممکن ہو جاتا ہے ۔ اگر کوئی ایسا کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی حکومت کو تباہ کر دے گا اور نئی قو میں پیدا کرے گا جو اس کے حکم کے ماتحت عبادتگاہوں کی حفاظت کریں گی ۔ اس آواز نے میرے خدشات کو دور کر دیا میرے خیالات کو مجتمع کر دیا اور میں نے پھر آزادی کا سانس لیا جس میں ایک طرف تسلی اور دوسری طرف درد ملا ہوا تھا۔ تسلی اس لئے کہ میں نے دیکھا کہ دنیا کی اصلاح کا دن آ گیا، ظلم مٹایا جائے گا اور درد اس لئے کہ اس آواز کے مالک کی طرف میرا دل زیادہ سے زیادہ کھینچا جا رہا تھا۔ مگر تیرہ سو سال کا زمانہ پوری تیره نا قابلِ گزر صدیاں میرے اور اس کے درمیان میں حائل تھیں ۔ مگر بہر حال میرے دل سے پھر ایک آہ نکلی اور شکر و امتنان سے بھرے ہوئے دل سے میں نے کہا کہ یہ آواز انسانی ضمیر کیلئے بھی ایک رحمت ثابت ہوئی ۔ اس کے بعد میرا میری نگہ انسانوں میں سے معذوروں پر معذوروں کیلئے رحمت پڑی۔ میں نے دیکھا کہ انسانوں میں سے کافی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو کسی نہ کسی وجہ سے ناکارہ اور بے مصرف نظر آتے ہیں ان میں سے اندھے ہیں اور بہرے ہیں اور گونگے ہیں اور لنگڑے نہ ے ہیں اور اپانچ ہیں اور مفلوج ہیں اور کمزور جسموں والے ہیں اور بیمار ہیں اور بوڑھے ہیں یا چھوٹے ہیں ، بیکار ہیں اور بے سروسامان ہیں اور بے یارو مددگار ہیں ۔ میں نے و نے دیکھا یہ مخلوق خدا تعالیٰ کی مخلوق میں سے سب سے زیادہ دلا سے زیادہ دلچسپ مخلوف مخلوق تھی ۔ میں نے ان میں سے ایسے لوگ دیکھے کہ باوجود ا پانچ ہونے کے ان کے دل شرارت سے لبریز تھے اگر کسی کے ہاتھ نہ تھے تو وہ پاؤں سے چوری کرنے کی کوشش کرتا تھا اور اگر پاؤں نہ تھے تو وہ گھسٹ کر بدی کے مقام پر جانا چاہتا تھا اور اگر آنکھیں نہ تھیں تو وہ کانوں سے بد نظری کا مرتکب ہونے کی کوشش کرتا تھا۔ یا ہاتھوں سے چھو کر اپنے بد خیالات کو پورا کرنے کی سعی کرتا تھا۔ بے یارو مددگار لوگوں کو میں نے دیکھا ان کے چہروں پر بادشاہوں سے زیادہ نخوت کے آثار تھے، بیکسوں کو دیکھا کہ اپنی بے کسی کی حالت میں ہی وہ دوسروں کو گرانے کیلئے کوشاں تھے مگر میں نے