انوارالعلوم (جلد 13) — Page 160
انوار العلوم جلد ۱۳ 17۔رحمة للعالمين طرف سے تھا اور زردتشت ایک عمدہ گویے نہ تھے جو فطرت کے رازوں کو ظاہر کر رہے ہوں بلکہ خود ایک ٹے تھے جس میں دوسرا شخص اپنی آواز ڈالتا ہے اور جس سُر کے اظہار کیلئے چاہتا ہے اسے کام میں لاتا ہے۔پھر میں نے تو رات اور اس کے ساتھ کی کتب پر نگاہ کی اور انہیں خدا تعالیٰ کے جلال کے اظہار اور شرک کی تردید اور توحید کے اثبات کے خیالات سے پر پایا۔میں نے دیکھا کہ ان کتب میں اللہ تعالیٰ کی بندوں پر حکومت اور ان کی مشکلات میں ان کی رہنمائی پر خاص زور تھا اور اس کے پڑھنے سے معلوم ہوتا تھا گویا خدا تعالیٰ کوئی الگ بیٹھی ہوئی ہستی نہیں بلکہ وہ ایسا بادشاہ ہے جو روز مرہ اپنے بندوں کے کام کا جائزہ لیتا ہے اور شریر کو سزا دیتا اور نیک کو انعام دیتا ہے اور ان کی غلطیوں پر تنبیہ کرنے کیلئے تازہ بتازہ احکام بھیجتا رہتا ہے۔میں نے اس مجموعہ میں یہ نیا امر دیکھا کہ جہاں گزشتہ کتب تعلیم پر زیادہ زور دیتی تھیں اور معلم کو نظر انداز کر دیتی تھیں وہاں اس مجموعہ میں معلموں کی شخصیتیں نہایت نمایاں نظر آتی تھیں اور تعلیم سے کم معلم کی شخصیت پر زور نہ تھا اور اسی اصل کے ماتحت اس کتاب میں ایک یا دو معلموں کے ذکر پر بس نہیں کی گئی تھی بلکہ معلموں کی ایک لمبی صف تھی جو ہر وقت تعلیم کے صحیح مفہوم کو سمجھانے کیلئے استاد نظر آتی تھی۔اس شریعت میں بھی زردتشتی کتاب کی طرح تفصیلات تعلیم پر خاص زور تھا اور گواس میں بھی انسانی ہاتھ کی دخل اندازی صاف ظاہر تھی لیکن میں نے دیکھا کہ آسمانی نور کی روشنی اس قدر درخشاں تھی کہ کوئی نابینا ہی اس کے دیکھنے سے قاصر رہے تو رہے۔پھر میں نے انجیل کی طرف نگاہ کی اور اسے گو میں ایک کتاب تو نہیں کہہ سکتا کیونکہ مسیح کے اقوال اور تعلیمیں اس میں بہت ہی کم نقل تھیں، زیادہ تر اس کے کارناموں پر روشنی ڈالی گئی تھی، لیکن پھر بھی اس میں روحانیت کی جھلک تھی اور جو تھوڑی سی تعلیم مسیح کی طرف منسوب کر کے اس میں لکھی گئی تھی، وہ نہایت اعلیٰ اور دلکش تھی۔اس کتاب میں سزا اور جزاء کی جگہ محبت اور رحم پر زیادہ زور تھا اور انسان کی ذاتی تکمیل کی جگہ آسمانی امداد پر انحصار رکھا گیا تھا۔بدھ کی طرح تو کل کا مظاہرہ تو نہ تھا لیکن مشکلات کے وقت خدا تعالیٰ کی امداد پر ضرور زور دیا گیا تھا۔اس کتاب سے خود ہی ظاہر تھا کہ مسیح گو ایک منهم من اللہ تھے لیکن شریعت جدیدہ کے حامل نہ تھے اور گوان کے الہامات اس میں مذکور نہ تھے لیکن جو کچھ حصہ الہامات کا اس میں مذکور تھا وہ لطیف اور اللہ تعالیٰ کی شان کا ظاہر کرنے والا تھا اور ایک ادنی نظر سے اس کے الہامی ہونے کا علم حاصل کیا جا سکتا تھا۔میں نے ایک خوشی کا سانس لیا اور کہا جس طرح خدا تعالیٰ کا مجازی نور اس کے مادی عالم کی ہر ھے سے ظاہر ہے اسی