انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 159 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 159

انوار العلوم جلد ۱۳ ۱۵۹ رحمة للعالمين اور مجھے اس کا افسوس کہ میں تیرہ سو سال بعد میں کیوں پیدا ہوا ؟ پہلی کتب کیلئے رحمت میں نے بزرگان دین کی طرف توجہ کرنے کے بعد پہلی کتب گاه فوت ہو چکے ان کے کارنامے لوگوں کے سامنے نہیں اور شاید انسان انسان سے حسد بھی کرتا ہے ممکن ہے حسد اور بغض کی وجہ سے لوگوں نے ان بزرگوں کی قدر نہ کی ہو۔ اور چھوٹے لوگ بڑے لوگوں کی باتوں میں آ گئے ہوں، اس لئے آؤ ہم ان کتب پر نظر ڈالیں جو آسمانی کہلاتی ہیں اور ان کی قدر و قیمت کا اندازہ لگائیں ۔ میں نے ویدوں پر نگہ کی اور ان میں بعض ایسے شاندار خیالات دیکھئے ایسے پاکیزہ رہ جواہر پارے دریافت کئے کہ میرے دل نے تسلیم کر لیا کہ ان کو پیش کرنے والے رشی منی خدا تعالیٰ سے ہی سیکھ کر یہ باتیں پیش کرتے تھے ۔ اس کے کئی حصے میری سمجھ میں نہیں آئے لیکن میں نے سمجھا اتنے لمبے عرصہ میں انسانی دست بر دبھی کتابوں کو کچھ کا کچھ بنادیتی ہے بہر حال ان میں مندرج خیالات کی عام رو نہایت پاکیزہ تھی ۔ پھر میں نے گوتم بدھ کی پیش کردہ تعلیم کو دیکھا تو اصولی طور پر اس کو بہت سے حُسن سے پُر پایا۔ اگر ویدوں میں محبت الہی کے جلوے نظر آ رہے تھے تو بدھ کی تعلیم میں خدا تعالیٰ پر اتکال اور اخلاق فاضلہ کے خوبصورت اصل نظر آئے ۔ بیشک ان کی تعلیم میں بھی بہت سی باتیں میری عقل کے خلاف تھیں مگر اصولی طور پر میں اس امر کو سمجھ سکتا تھا کہ وہ تعلیم آسمانی منبع سے ہی نکلی ہے اور انسانی عقل اس کا سر چشمہ نہیں ۔ گو یہ حق ہے کہ انسان نے بعد میں گتر بیونت سے اس کے حسن کو کم کرنے کی کوشش ضرور کی ہے ۔ اس کے بعد میں زرتشت کی تعلیم کی طرف رف متوجہ ہوا اور اس میں میں نے نہ صرف اخلاق کی اعلیٰ تعلیم پائی بلکہ تدبیر کا پہلو نہایت روشن طور پر کام کرتا ہوا نظر آیا۔ بدھ میں صوفیت کی روح کام کر رہی تھی لیکن زرتشت میں ایک معلم کی جو ایک بچہ کی کمزوریاں دیکھ کر اس کو تفصیلی ہدایات دیتا ہے جن سے اُس کے لئے اپنا کام عمدگی سے پورا کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ میں نے اس میں دوسری تعلیمات کے مقابلہ کی نسبت معاد پر زیادہ زور پایا اور اس میں یہ روح کام کرتی ہوئی دیکھی کہ زیادہ اس خیال میں نہ پڑو کہ تم کس طرح پیدا ہوئے ؟ تم کدھر جا رہے ہو اور مستقبل میں تم سے کیا پیش آنے والا ہے اس کا زیادہ خیال کرو۔ میں نے دیکھا کہ وہ تعلیم جنت اور دوزخ اور عالم برزخ اور حساب اور توبہ اور گناہوں کی فلاسفی وغیرہ کے خیالات سے لبریز تھی اور گو اس میں بھی انسانی دست اندازی کے اثر ہویدا تھے لیکن یہ امر بھی بالبداہت ثابت ہوتا تھا کہ اس کا نزول اللہ تعالیٰ کی