انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 143 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 143

۱۴۳ انوار العلوم جلد ۱۳ رحمة للعالمين وجود جو ان کی چمک دمک کا باعث تھا ناراض ہو کر پیچھے ہٹ گیا ہے اور جھروکہ جھانکنے والے کے چہرہ کے نور سے محروم ہو گیا ہے وہ زندہ نظر آنے والے گرے بے جان مٹی کے ڈھیر نظر آنے لگے میں نے گھبرا کر ادھر اُدھر دیکھا کہ یہ کیا ہونے لگا ہے؟ کہ میری نظر نیچے کی گہرائیوں میں اپنے ہم جنس انسانوں پر پڑی۔میں نے دیکھا ہزاروں لاکھوں بظاہر عقلمند نظر آنے والے انسان سر کے بل گرے ہوئے یا گھٹنے ٹیک کر بیٹھے ہوئے گڑ گڑا کر اور رو رو کر دعائیں کر رہے ہیں۔کوئی کہتا ہے اے سورج دیوتا! مجھ پر نظر کر میرے اندھیرے گھر کو اپنی شعاعوں سے منور کر میری بیوی کی بے اولاد گود کو اولاد سے بھر دے اور میرے دشمنوں کو تباہ کر۔کوئی کہتا اے چندر ما با! میری تاریکی کی گھڑیوں کو اپنے نور سے روشن کر اور غموں اور رنجوں کو ہمارے گھر سے دور کر۔کوئی کہتا اے ستار و! تم خوشیوں کا موجب اور میری راحتوں کا منبع ہو۔اے زہرہ ! تو محبت سے ہمارے گھروں کو بھر دے اور ہمارے پیاروں کے دل ہماری طرف پھیر دے۔اور اے مریخ ! تو ہم پر ناراض نہ ہواور مصیبتوں کی گھڑیاں ہم پر نہ لا اپنا غصہ ہمارے دشمنوں کی طرف پھیر دے۔میرا دل اس گھناؤنے نظارہ کو دیکھ کر سخت گھبرا گیا اور میں نے کہا انسان نے کیسی خوبصورت چیزوں کو کیسا گھناؤنا بنا دیا ہے۔جب عاشق محبوب کے چہرے کی بجائے اس کی نقاب سے عشق کرنے لگتا ہے جب اس کے حقیقی حسن کو بھلا کر وہ اس کے لباس کی زیبائش پر فریفتہ ہونے لگتا ہے تو محبوب اس لباس سے نکل جاتا ہے اور خالی لباس عاشق کی طرف پھینک دیتا ہے کہ جا اور اسے دیکھا کر۔مگر وہی لباس جو معشوق کے جسم پر خوبصورتیوں کا مجموعہ نظر آتا تھا اب کیسا بُرا کیسا بھذا نظر آتا ہے۔میں نے کہا یہی حال آسمان کے اجسام کا ہے جب تک ان میں ازلی ابدی محبوب کا چہرہ دیکھا جائے وہ کیسے خوبصورت نظر آتے ہیں، کیسے شاندار کیسے باعظمت اور جب خود ان کی ذات مقصود ہو جائے ان کی عظمت کس طرح برباد ہو جاتی ہے۔ہیئت دان کس طرح بے رحمی سے ان کو چیر پھاڑ کر ایک دھاتوں کا تو وہ ایک گیسوں کا مجموعہ ثابت کر دیتے ہیں۔میں نے اس خیال کے پیدا ہونے پر پہلے تو حسرت سے آسمانوں کی طرف اور ان کے کھوئے ہوئے حسن کی طرف دیکھا اور پھر انسان اور اس کی گم شدہ عقل کی طرف نظر کی۔میں اسی حال میں تھا کہ ایک نہایت دل کش نہایت سریلی آواز دلوں کو مسحور کر دینے والی افکار کو اپنا لینے والی میرے کانوں میں پڑی اس نے پر جلال و شاندار لہجہ سے کہا۔نہ سورج کو سجدہ کرو اور نہ چاند کو بلکہ صرف اللہ کو جو ایک ہی ہے اور جس کا قبضہ ان سب فلکی اجرام پر اور دوسری چیزوں پر ہے سجدہ کرو لے اور یاد رکھو کہ اس