انوارالعلوم (جلد 13) — Page 142
انوار العلوم جلد ۳ ۱۴۲ رحمة للعالمين بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ رَحْمَةٌ لِلْعَلَمِينَ صَلى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انسانی دماغ بھی اللہ تعالیٰ نے عجیب قسم کا بنایا ہے۔کئی کئی حالتوں میں سے وہ گزرتا ہے۔ایک وقت فلسفہ کے دلائل اُسے اُلجھا رہے ہوتے ہیں تو دوسرے وقت وجدان کی ہوائیں اسے اُڑا رہی ہوتی ہیں، ایک وقت علم کے غوامض اسے نیچے کی طرف کھینچ رہے ہوتے ہیں تو دوسرے وقت عشق کی بلندیاں اسے اوپر کو اٹھا رہی ہوتی ہیں انہی حالتوں میں سے ایک حالت مجھ پر طاری تھی۔میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی پر غور کر رہا تھا میری عقل اس کی حد بندی کرنا چاہتی تھی کہ میرا دل میرے ہاتھوں سے نکلنے لگا اس بحر نا پیدا کنار کی شناوری نے میری فکر کوسب قیود سے آزاد کر دیا اور وہ زمانہ اور مکان کی قید سے آزاد ہو کر اپنی ہمت اور طاقت سے بڑھ کر پرواز کرنے لگا۔آسمان کیلئے رحمت میری نگاہ آسمانوں کی طرف گئی اور میں نے روشن سورج اور چپکتے ہوئے ستاروں کو دیکھا وہ کیسے خوش منظر تھے وہ کیسے دل کھانے والے تھے ان کی ہر ہر شعاع محبت کی چمک سے درخشاں تھی یوں معلوم ہوتا تھا جیسے جھمیلوں سے کوئی معشوق محو نظارہ ہے میرا دل اس نظارہ کو دیکھ کر بیتاب ہو گیا۔مجھے اس روشنی میں کسی کی صورت نظر آتی تھی کسی ازلی ابدی معشوق کی جو سب حُسنوں کی کان ہے۔مجھ پر بالکل اسی کی سی حالت طاری تھی جس نے کہا ہے چاند کو گل دیکھ کر میں سخت بیکل ہو گیا کیونکہ کچھ کچھ تھا نشاں اُس میں جمال یار کا نہ معلوم میں اس خیال میں کب تک محور بتا کہ میں نے عالم خیال میں دیکھا سورج کی روشنی زرد دھیمی پڑنے لگئی چاند اور ستارے مٹتے ہوئے معلوم ہونے لگے۔یوں معلوم ہوتا تھا کہ وہ