انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 135 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 135

انوار العلوم جلد ۱۳ ۱۳۵ آہ ! نادر شاہ کہاں گیا سے مشہور ہو کر اور اُن کی محبت کو جذب کر کے ایک دشمن ملک کے ہاتھوں سے قتل ہوئے ہیں اور سارا ملک بزبانِ حال چلا رہا ہے کہ آہ ! نادرشاہ کہاں گیا ؟ (۱۰) اس الہام میں یہ بات بھی بتائی گئی اچانک حادثہ سے وفات کی خبر تھی کہ نادرشاہ صاحب کی وفات کسی اچانک حادثہ سے ہوگی۔کیونکہ آہ! نادر شاہ کہاں گیا“ کے الفاظ میں نہ صرف افسوس بلکہ حیرت بھی پائی جاتی ہے اور حیرت ہمیشہ بے وقت یا غیر مترقب امر کے متعلق ہوا کرتی ہے۔پس ان الفاظ سے ثابت ہے کہ الہام میں یہ بتایا گیا تھا کہ نادرشاہ معمولی طریق پر دنیا سے رخصت نہ ہوں گے بلکہ ان کا دنیا سے جانا غیر معمولی واقعہ کے طور پر ہوگا اور ایسے موقع پر ہو گا جبکہ لوگوں کو اس کی امید نہ ہوگی۔نادرشاہ صاحب کے قتل کے جو واقعات اخبارات میں شائع ہو چکے ہیں، ان سے صاف ظاہر ہے کہ اس پیشگوئی کا یہ حصہ بھی لفظاً لفظاً پورا ہوا۔کہا جاتا ہے کہ نادرشاہ صاحب ایک فٹ بال میچ کے نتیجہ میں تقسیم انعام کرنے کے لئے اپنے باغ دل کشا نامی میں تشریف لائے اور سینکڑوں لوگوں کے مجمع میں جس میں طالب علم، اُستاد اور امرائے سلطنت وغیرہ تھے چند طالبعلموں سے گفتگو کر رہے تھے کہ انہی طالب علموں میں سے جن کی ہمت بڑھانے کے لئے وہ آئے تھے ایک نے ان پر ایک گز کے فاصلہ پر سے متواتر تین فائر کر دیئے۔اور یکدم وہ مجمع طرب بزم عز ا بن گیا۔اس واقعہ کی سُرعت اور اس کی سخت حیرت کا موجب ہونا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تین فائر یکے بعد دیگرے ہو گئے اور لوگ شاہ کے بچانے کی کوشش نہ کر سکے۔جرنیل محمود خان وزیر حرب اور شاہ کے بھائی اُس وقت موجود تھے اور اس طرح اچانک کچھ کا کچھ ہو جانے کا اُن پر اس قدراثر ہوا کہ اخبارات میں لکھا ہے کہ وہ غش کھا کر گر گئے۔لوگ گھبرا کر بازاروں کی طرف دوڑ پڑے اور پکارنے لگے کہ شاہ فوت ہو گئے ہیں، شاہ فوت ہو گئے ہیں۔یہ سب امور بتاتے ہیں کہ پیشگوئی کے عین مطابق نادرشاہ صاحب کا واقعہ اس حیرت انگیز طریق سے ہوا کہ لوگ اپنے حواس کھو بیٹھے۔(۱۱) اس پیشگوئی سے یہ بات بھی نادرشاہ کی افغانستان کو اشد ضرورت معلوم ہوتی تھی کہ جس وقت۔نادرشاہ صاحب کی وفات ہو گئی، اُس وقت ملک کو اُن کی اشد ضرورت ہو گی۔واقعات سے یہ امر