انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 97 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 97

انوار العلوم جلد ۱۳ ۹۷ میری ساره ساره بیگم نیک نیتی سے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے کوشش کرتے ہوئے فوت ہوئیں اور جو اس طرح جان دیتا ہے وہ شہید ہوتا ہے اور پھر انہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے نبی آخر الزمان کے قول کے مطابق زچگی کی بیماری سے وفات دے کر ظاہراً بھی شہادت کا مرتبہ عنایت فرمایا ہے۔پس وہ زندہ ہیں اور ان کے نیک کام جاری رہیں گے کیونکہ وہ جو خدا تعالیٰ کے لئے بوجھ اُٹھاتا ہے اور اسی کام میں جان دیتا ہے، خدا تعالیٰ اس کے کام کو میٹنے نہیں دیا کرتا۔بعض لوگ اپنی حیات سے دنیا کو فائدہ پہنچاتے ہیں اور بعض موت سے۔یہی خدا کی سنت ہے جو قدیم سے چلی آئی ہے۔خدا تعالیٰ نے مسیح کی زندگی سے دنیا کو فائدہ پہنچایا اور یکجی کی موت سے۔خود ہمارے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں اگر علی نے زندہ رہ کر اُمت کی راہ نمائی کی تو حمزہ نے بظاہر بے وقت کی موت سے۔کئی موتیں ہیں جو زندگی سے زیادہ با برکت ہوتی ہیں اور اگر خدا تعالیٰ کا منشاء اخفاء کی تائید میں نہ ہوتا تو میں وہ کچھ کہہ سکتا تھا جس سے عقلیں دنگ ہو جاتیں لیکن میں اسے مخفی رکھتا ہوں کیونکہ خدا بھی اسے مخفی رکھنا چاہتا ہے اور صرف اس کے آثار کو ظاہر کرنا چاہتا ہے اور کیا خود خدا کا وجود ہم سے مخفی نہیں اور کیا صرف اس کی صفات کا ظہور ہی اس کے وجود کو ہمارے سامنے نہیں لایا۔میرے آئندہ ارادے آئندہ عورتوں کی تعلیم کے متعلق بھی میں کچھ کہنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ میری آئندہ سکیم کے متعلق سر دست صرف یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ کچھ ارادوں اور کچھ تو کل کی ایک سکیم ہے۔میں بعض امور کے متعلق جماعت کو آگاہ کرنا چاہتا ہوں اور کچھ حصے کے متعلق خاموش رہنا چاہتا اور اپنے دماغ کو بھی ہر اک خیال سے آزاد رکھنا چاہتا ہوں تا خدا تعالیٰ کا الہام اِس پر نازل ہو اور اس طرف میری راہنمائی کرے جو اُس کے علم میں بہتر ہے اور جس کی نسبت اُس کی رضا کا فیصلہ صادر ہو چکا ہے۔شاید کوئی بے وقوف کہے کہ ایک چیز کو کیوں خدا پر چھوڑتے ہواور دوسری کو نہیں۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ مومن کا قدم اطاعت کا قدم ہوتا ہے جس امر میں خدا تعالیٰ اُسے کہتا ہے کہ اے میرے بندے! اس کے متعلق غور کر کے ایک راہ اختیار کر اور پھر مجھ پر تو کل کر وہ اس کے متعلق غور کرتا اور پھر تو کل کرتا ہے اور جس امر کے متعلق وہ اپنے بندے کو یہ کہتا ہے کہ اے میرے بندے دل کو خالی کر دے اور توکل کر اور جب میری طرف سے اشارہ ہوتب حرکت کر وہ اسی طرح کرتا ہے اور تو کل کو عمل سے پہلے رکھ دیتا ہے۔غرض صحیح راستہ یہی ہے کہ کبھی تو حمل عمل سے پہلے ہوتا ہے