انوارالعلوم (جلد 13) — Page 6
انوار العلوم جلد ۳ اللہ تعالیٰ کے راستہ میں تکالیف کیسی غلط بات ہے جو قرآن مجید نے کہی کہ دل میں محبت پیدا ہوتی ہے۔محبت کا تعلق تو دماغ سے ہے مگر ہم ان کی سائنس کو کیا کریں ہمیں تو جب بھی ٹمیں اُٹھتی ہے دل میں ہی اُٹھتی ہے، سر میں نہیں اٹھتی۔جب محبوب کیلئے انسان تکلیف اُٹھاتا ہے تو وہ سینے پر ہی ہاتھ رکھتا ہے سر پر نہیں رکھتا ہے۔لوگ محبت میں دل پر ہاتھ رکھتے ہیں اور کہتے ہیں ہائے میرے دل کو کیا ہو گیا ہے۔ہم مانتے ہیں کہ خیالات انسان کے دماغ میں بھی اُٹھتے ہونگے پر جو محبت انسان کو پاک کرتی ہے وہ دل میں اٹھتی ہے۔وہیں کچھ ہوتا ہے گو ہم بیان نہیں کر سکتے کہ کیا ہوتا ہے۔ہمیں ڈاکٹروں سے غرض نہیں ، ہمیں سائنس دانوں سے تعلق نہیں اور نہ ہم ڈاکٹری یا سائنس کے دعویدار ہیں مگر ہم اتنا کہے بغیر نہیں رہ سکتے کہ دل میں کچھ ہوتا ضرور ہے۔ہم بیان نہیں کر سکتے کہ کیا ہوتا ہے مگر ہوتا دل میں ہی ہے۔پس اگر کسی جگہ ہماری جماعت کی مخالفت ہوتی ہے تو ڈرنے کی کوئی بات نہیں وہ سچے عاشقوں کے نزدیک ان تکالیف اُٹھانے والے احمدیوں کو قابلِ رحم نہیں بناتی بلکہ قابل ستائش ٹھہراتی ہے۔نادان ہیں وہ جو یہ کہتے ہیں کہ ہائے ہمیں یہ یہ تکلیف ہو رہی ہے۔عاشق صادق تو وہ ہوتا ہے جو کہتا ہے واہ واہ فلاں تکلیف اُٹھانے والا کس طرح منازل قرب طے کر رہا ہے ، خدا کا فضل اسے کیسے کھینچ رہا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی گود میں کیسے آرام سے بیٹھا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں سب سے زیادہ مقرب انسان سب سے زیادہ تکالیف کا مورد بنتا ہے۔" پس تکلیفیں اُٹھا نا علامت ہے اس بات کی کہ وہ ایسے انسانوں کو بڑھانے اور ترقی دینے کا ارادہ رکھتا ہے بشرطیکہ وہ ان کی قدر کریں اور بشر طیکہ تکالیف آنے پر اور زیادہ اللہ تعالیٰ کے سلسلہ کی اشاعت میں کوشاں ہوں۔ایک بزرگ انسان کے متعلق آتا ہے کہ لوگوں نے ان کو سنگسار کرنے کیلئے پتھر مارنے شروع کئے۔وہ پتھر اٹھاتے اور اسے بوسہ دیتے کہتے یہ میرے محبوب کی محبت کی علامت ہے۔پس تکلیفیں کوئی چیز نہیں اگر دل میں عشق ہو تو تمام تکلیفیں انسان کیلئے راحت بن جاتی ہیں۔اگر ہم خدا کے ہیں تو مصیبت میں ہمیں گھبرانے کی کیا ضرورت ہے۔خدا کا بندہ جو ہوتا ہے وہ ایک ہی بات جانتا ہے اور وہ یہ کہ جہاں مجھے میرا محبوب رکھے گا میں وہیں خوش رہوں گا اگر وہ مجھے تکلیف میں رکھ کر خوش ہوتا ہے تو اسی میں میری خوشی ہے اور اگر آرام کی زندگی دے کر خوش ہوتا ہے تو اسی میں میری خوشی ہے۔غرض مومن کی علامت یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے مقام پر خوش رہے اس جگہ سے نہ آگے جائے نہ پیچھے ہٹے جہاں خدا نے اسے کھڑا کر دیا ہے۔پس یاد رکھو کہ دنیا کے دُکھ ہر گز عذاب نہیں بلکہ اگر کوئی اس لئے دُکھ دیتا ہے کہ تم کیوں خدا کا سچا دین