انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 485 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 485

انوار العلوم جلد ۱۳ 485 نہیں جو جماعت احمدیہ سے مخصوص ہو۔ہر جماعت کا یہی حال ہے۔کوئی قوم بھی نہیں کہہ سکتی کہ ہمارے ہر منصف یا خطیب کی تحریر یا بات قابل قبول ہے۔اور اس وجہ سے تمام فرقے قابل حجت صرف اپنے سلسلہ کے بانی کی کتب کو تسلیم کرتے ہیں یا ایسے آئمہ کو جن کو وہ خالی از خطا سمجھتے ہوں اور اس بحث میں نہیں پڑتے کہ بعض اور قابل اعتبار علماء بھی ہو سکتے ہیں۔مثلاً مسلمان غیر قوموں سے بحث کے وقت صرف قرآن کریم پر انحصار رکھتے ہیں۔دوسری سب کتب کی نسبت کہتے ہیں۔کہ صحیح ہونگی۔تو تسلیم کریں گے ورنہ نہیں۔کیا اس کا یہ مطلب لیا جائے گا۔کہ مسلمانوں کے نزدیک سب بزرگوں نے جھوٹ بولا ہے۔(نعوذ باللہ من ذالک) مثال کے طور پر یہ بات لے لیجئے۔کہ مظہر علی صاحب جس فرقہ سے یعنی شیعہ مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔وہ بھی اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں۔اور سنی بھی اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں۔اب اگر کوئی عیسائی ایک مسلمان پر یہ اعتراض کرے کہ تمہارے رسول کریم له و نعوذ باللہ من ذالک ) لوگوں سے ڈر کر خدا تعالیٰ کے حکام کو چھپا لیا کرتے تھے اور اس کی تائید میں وہ اظہر صاحب کے ہم مذہبوں کی معتبر کتاب تفسیر صافی کا حوالہ صفحہ ۱۲۷ سے دے کر آنحضرت ﷺ کو جب حضرت علی کی ولایت کے اعلان کا حکم ہوا۔تو آپ نے نعوذ باللہ من ذالک لوگوں سے ڈر کر اس حکم کو چھپایا تو اب بتا ئیں۔کہ ایک مسلمان کے لئے اس کے سوا کیا چارہ ہے۔کہ وہ کہے کہ اظہر صاحب یا ان کے ہم مذہبوں نے اگر غلطی کی ہو تو اسلام اس کا ذمہ وار نہیں ہمارے لئے تو قرآن کریم حجت ہے۔اور وہ تو رسول کریم ﷺ کی نسبت فرماتا ہے۔کہ انک لعلی خلق عظیم کہ سب اعلیٰ اختلاق به حد کمال تیرے اندر پائے جاتے ہیں۔پس قرآن کریم کی اس شہادت کے بعد ہم ایسی خرافات کو کب تسلیم کر سکتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ لوگوں سے خوف کھا کر احکام الہی کو چھپا لیتے تھے خواہ یہ قول احرار کے سیکرٹری کا مذہب ہو یا اس کی جماعت کا یا مثلاً اگر کوئی کینه در دشمن یہ اعتراض کرے کہ مسلمانوں نے یہ تسلیم کیا ہے۔کہ نعوذ باللہ من ذالک قرآن کریم محرف و مبدل ہے اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ مجلس احرار کے سیکرٹری مسٹر مظہر علی صاحب اظہر کا جس فرقہ سے تعلق ہے ان کی کتابوں میں یہ لکھا ہے کہ حضرت ابوبکر حضرت عمر وغیر ہم کو قرآن کریم بطور امانت دیا گیا تھا۔حرفوه و بد لوہ انہوں نے نعوذ باللہ من ذالک اس میں تحریف کر دی۔