انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 476 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 476

انوار العلوم جلد ۱۳ 476 آلومہار نے بھی اپنی تقریر میں چنیوٹ میں کہا ہے کہ " مرزا محمود نے مجلس احرار کو چیلنج دیا ہے کہ آؤ مجھ سے مرزا کی نبوت پر قادیان آ کر مباہلہ کرو۔زعمائے احرار نے مرزا محمود کے اس چیلنج کو قبول کر لیا ہے۔( مجاہد صفحہ (۳) لیکن حقیقت یہ ہے کہ میں نے چیلنج اس امر کا دیا تھا کہ احرار جو یہ الزام لگاتے ہیں۔کہ بانی سلسلہ احمدیہ اور جماعت احمد یہ رسول کریم ﷺ سے مرزا صاحب کے درجہ کو بڑھاتی ہے اور آنحضرت ﷺ کی بہتک کرتی ہے اس پر لاہور یا گورداسپور میں مباہلہ کر لیں۔اس پر مجھے معلوم ہوا کہ احرار نے کہا ہے کہ بانی سلسلہ احمدیہ کی صداقت پر بھی مباہلہ ہو اور قادیان میں ہو۔اس پر میں نے لکھا کہ اگر صداقت پر بھی مباہلہ کرنا ہے تو بے شک یہ مباہلہ بھی ہو۔مگر یہ مباہلہ الگ ہو اور رسول کریم ﷺ سے بانی سلسلہ احمدیہ کو بڑھا کر پیش کرنے کے الزام کے متعلق الگ مباہلہ ہو۔اور قادیان کے متعلق لکھا کہ اگر احرار کو لاہور یا گورداسپور پر کوئی خاص اعتراض ہے تو وہ قادیان آسکتے ہیں۔اب ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ چنیوٹ کی تقریر میں صدر احرار کا نفرنس نے قطعاً غلط بیانی سے کام لیا ہے۔(1) بانی سلسلہ احمدیہ کے دعوی کے متعلق مباہلہ کے چیلنج کو میری طرف منسوب کیا ہے حالانکہ یہ چیلنج احرار کی طرف سے تھا۔اور شاید مسٹر مظہر علی صاحب اظہر کو اپنے صدر کی تقریر یاد نہ تھی کہ انہوں نے اپنی تقریر میں یہ تسلیم کیا ہے کہ یہ چیلنج خود ان کی طرف سے تھا۔(۲) صدر صاحب کہتے ہیں کہ مرزا محمود نے قادیان آ کر مباہلہ کرنے کا چیلنج دیا ہے حالانکہ میں نے لاہور یا گورداسپور کا چیلنج دیا تھا نہ کہ قادیان کا اور اظہر صاحب نے اپنی تقریر میں اس کو بھی تسلیم کیا ہے کہ یہ تجویز خود ان کی طرف سے تھی۔(۳) اظہر صاحب نے جہاں ان دو باتوں میں اپنے صدر صاحب کے بیان کی قلعی کھولدی ہے وہاں اپنی طرف سے ایک غلط بیانی زائد بھی کر دی ہے اور وہ یہ کہ وہ کہتے ہیں کہ د میں نے کہا کہ مباہلہ قادیان میں ہونا چاہیئے۔اور مرزا غلام احمد کی صداقت پر ہونا چاہیئے۔مرزا محمود نے تسلیم کر لیا ہے کہ بے شک احرار قادیان میں ہی آکر ہم سے مباہلہ کر لیں۔“ اس فقرہ کو پڑھ کر ہر شخص یہی سمجھے گا کہ مباہلہ قادیان میں ہونا چاہیئے اور سلسلہ احمدیہ کی صداقت میں ہونا چاہیئے اور سلسلہ احمدیہ کی صداقت کے متعلق ہی ہونا چاہیئے۔نہ کہ ہتک آنحضرت ﷺ فداہ قلبی و نفسی کے الزام کے متعلق۔جس کا یہ مطلب ہے کہ گویا میں نے صل الله