انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 37 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 37

۳۷ انوار العلوم جلد ۱۳ قرآن کریم پر ستیارتھ پر کاش“ کے اعتراضات کی حقیقت میں کسی کو خدا کا شریک کرنا جو اُس کے لئے خاص ہیں اور جس میں کسی کا دخل نہیں ہے۔یا اُس حد سے زیادہ کسی کو صفات الہیہ میں شریک کرنا جو اُس نے مخلوقات اور مصنوعات میں ودیعت کی ہیں۔شرک اول کی مثال خلق ہے کہ اِس میں اُس نے کسی کو شریک نہیں کیا اور شرک دوم کی مثال سمع ہے کہ اُس نے انسانوں اور حیوانوں میں سمع کی طاقت رکھی ہے لیکن ایسی طاقت کسی کو نہیں دی کہ انہی کانوں کے ساتھ گل دنیا کی چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی آوازوں کوسن لے۔پس کسی کو خالق ماننا یا اس قسم کا سمیع ماننا کہ گل باریک اور موٹی، خفی اور جلی ، آہستہ اور اونچی سب آوازوں کو یکدم سن لیتا ہے ، شرک ہوگا نہ کہ کسی کا محض وجود ما نا یا کسی کا عام فرمانبرداری شرک ہوگی۔دوسری بات جو پنڈت صاحب نے اس آیت سے نکالی ہے یہ ہے کہ اگر ایمان کے معنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا ماننا ہے جیسا کہ میں نے اوپر لکھا ہے تو اس پر دوسرا اعتراض یہ پڑتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ضرورت کیا تھی اور جب کہ آپ کی خدا کوکوئی ضرورت تھی اور آپ کے بغیر خدا کوئی کام نہ کر سکتا تھا تو ضر ورخدا قدرت سے خالی ہوا۔لیکن اس اعتراض کے کرتے وقت اپنے گھر کا خیال پنڈت جی کو نہیں رہا۔ان کو یاد رکھنا چاہئے کہ وہ بھی ایک کی جگہ چار رشیوں کو قبول کرتے ہیں۔پس یہی اعتراض ان پر بھی پڑے گا کہ ان چار رشیوں کی ضرورت کیا تھی۔کیا پر میشور ان کے بغیر کام نہیں کر سکتا تھا اور وید ان کے سوائے نہیں بھیج سکتا تھا اور اگر نہیں بھیج سکتا تھا تو پر میشور بے قدرت ہوا۔بلکہ خود یہی کیوں نہ کہیں کہ کیا ویدوں کا خدا محتاج تھا اور کیا ان کے بغیر دنیا کو ہدایت نہیں دے سکتا تھا ؟ اگر نہیں تو ویدوں کا محتاج ہوا۔لیکن کیا آریہ صاحبان اس قسم کے بیہودہ اعتراض کو اپنے رشیوں یا اپنی کتب کی نسبت برادشت کریں گے؟ اگر نہیں برداشت کر سکتے تو پھر قرآن شریف پر ان کے اعتراض کرنے کے کیا معنی؟ یہ اعتراض تو ” مشتے نمونہ از خروارے ہیں۔اگر آدمی جواب لکھنے لگے تو چودہ مود اس نے سارے کا سا را غلط اور بے بنیاد اعتراضات سے بھرا ہوا ہے۔الفضل ۲۳ فروری ۱۹۳۳ء) 3) کنز العمال جلد ۱ صفحه ۵۵۵ مكتبة التراث الاسلامی حلب میں یہ الفاظ آئے ہیں "كُلُّ أَمْرٍ ذِى بَالِ لَا يُبْدَءُ فِيهِ بِسْمِ اللهِ الرَّحمنِ الرَّحِيمِ أَقْطَعُ۔النحل: ٩١ ال عمران: ۱۸۰ البقرة: ٢٠٩ h البقرة: ۲۵۶ چودھواں سملاس (ستیارتھ پرکاش کا چودھواں باب )