انوارالعلوم (جلد 13) — Page 371
انوار العلوم جلد ۱۳ 371 مستورات سے خطاب کہ اُن کو بازاروں میں پھر اتے تھے۔بعض کو نکیل ڈال کر کہا کہ تم احمدیت کو چھوڑ دو لیکن وہ احمدیت سے نہ پھرے۔صاحبزادہ عبداللطیف صاحب کو جب میدان میں لایا گیا تو بادشاہ نے کہا کہ اب بھی احمدیت کو چھوڑ دو۔علماء پتھر مارتے تھے۔آپ کے مُرید ہتھکڑیاں دیکھ کر روتے تو آپ فرماتے یہ سونے کے کنگن ہیں۔ایک ہندوستان کا تاجر جو اُس وقت وہاں موجود تھا اور وہ اب احمدی ہے وہ کہتا ہے کہ میں نے بھی کئی پتھر مارے تھے۔خون بہہ رہا تھا اور آپ یہ کہتے جاتے تھے کہ میری قوم نادانی سے یہ کر رہی ہے۔لوگ شکاری کتوں کی طرح لپک رہے ہیں، ہڈیاں پتھروں سے چور ہو رہی ہیں لیکن آپ ہاتھ اُٹھائے دعا کرتے ہیں۔یہ تھا ایمان ایک احمدی کا۔تو ایمان کسی کے مٹانے سے مٹ نہیں سکتا۔غرض کوئی بھی ایمان کو مٹا نہیں سکتا۔حکومتیں ہوں، رعایا ہوں امیر ہوں یا علماء ہوں، وہ ہمارے جسم اور جان کو مار سکتے ہیں لیکن ایمان کو خراب نہیں کر سکتے۔تو ہمارا فرض ہے مردوں ہی کا نہیں بلکہ عورتوں کا بھی ویسا ہی فرض ہے کہ سلسلہ کے لئے قربانیوں کیلئے تیار رہیں۔ایک نہیں بلکہ سینکڑوں مثالیں ایسی ہیں جنہوں نے سلسلہ کے لئے بڑی بڑی تکلیفیں اُٹھا ئیں جب تک کہ خدا نے انہیں موت نہیں دی اس لئے تمہارا فرض ہے کہ مردوں کے دوش بدوش رہو۔اگر تمہیں دین سے محبت ہے تو ان فتنوں کے زمانے میں میں نے جو سکیم مقرر کی ہے اُس کی پابند رہو۔دیکھو ماں ساری رات بچے کیلئے جاگتی ہے تو کیا وہ کسی پر احسان کرتی ہے؟ تو اگر دین کی محبت ہے تو اس کے لئے ہر ایک قسم کی تکلیف برداشت کرو۔میں سب را از تو آپ کو بتلا نہیں سکتا کیونکہ جرنیل کا کام نہیں کہ ہر ایک راز سپاہیوں کو بتلا دے۔میں نے ساڑھے ستائیس ہزار روپے کی اپیل کی تھی لیکن ہم صرف روپے سے مقابلہ نہیں کر سکتے۔دشمنوں کے پاس ایسے کئی آدمی ہیں جو بڑے متمول ہیں وہ یکمشت ساٹھ ہزار روپے دے سکتے ہیں۔بمبئی میں کئی سوداگر ہیں جو دس دس بیس بیس لاکھ کے مالک ہوں گے تو اگر ہم ایک کروڑ روپیہ بھی جمع کر لیں تو تب بھی مقابلہ نہیں کر سکتے۔دین کی خاطر قربانی۔سادہ زندگی اصل کام ہر احدی مرد اور حمدی عورت کا قربانی ہے۔تو ہر ایک عورت، مرد سادہ زندگی بسر کرے کیونکہ ہم کو نہیں معلوم ہمیں کیا کیا قربانیاں کرنی پڑیں گی۔دیکھو! اگر یہ ہی عادت ڈالیں کہ جو ہوا وہ خرچ کر دیا، حالانکہ قرآن مجید میں صاف حکم ہے کہ اپنے مال میں نہ بخل کرو نہ اسراف تو نتیجہ یہ ہوگا کہ جب دین کیلئے ضرورت ہوگی تو کچھ بھی دینے کیلئے نہ ہوگا۔پس میں یہ