انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 359 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 359

359 انوار العلوم جلد ۱۳ بانی سلسلہ احمدیہ کی صداقت کے تین شاہد کہنا کہ ہمیں کیا مسیح زندہ ہیں یا مر گئے پہلی بیوقوفی سے کم بیوقوفی نہیں کیونکہ اس کے معنی تو یہ بنتے ہیں کہ ہمیں اس سے کیا کہ قرآن کریم کے خلاف کوئی بات کہی جاتی ہے، ہمیں اس سے کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک ہوتی ہے، ہمیں اس سے کیا کہ اسلام کو نقصان پہنچتا ہے مگر بہر حال اس تغیر مقام سے یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ دل اس عقیدہ کی غلطی کو تسلیم کر چکے ہیں گو ضد اور ہٹ صفائی کے ساتھ اس کے تسلیم کرنے میں روک بن رہے ہیں مگر کیا وہ لوگ اسلام کے لیڈر کہلا سکتے ہیں جو صرف اس لئے ایک ایسے عقیدہ پر پردہ ڈال رہے ہوں جو اسلام کیلئے مضر ہے کہ ایسے ردّ کرنے سے لوگوں پر یہ کھل جائے گا کہ انہوں نے حضرت مرزا صاحب کی مخالفت میں غلہ یں غلطی کی تھی۔بہر حال علماء جو رویہ چاہیں اختیار کریں ہر اک مسلمان پر اب یہ امر واضح ہو گیا ہے کہ عقائد کی جنگ میں دوسرے علماء مرزا صاحب علیہ السلام کے مقابل پر سخت شکست کھا چکے ہیں اور وہ مسئلہ جس کے بیان کرنے پر علماء نے بانی سلسلہ احمدیہ پر کفر کا فتویٰ لگایا تھا آج اکثر مسلمان نوجوانوں کے دلوں میں قائم ہو چکا ہے اور یہ پہلی شہادت مرزا صاحب کی صداقت کی ہے۔دوسری چیز جس سے انسان کو کامیابی حاصل ہوتی ہے درستی عمل ہے اور اس بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کوششوں میں سے میں ایک کوشش کو بطور نمونہ پیش کرتا ہوں۔جس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دعوی کیا مسلمانوں کی عملی سستی اور بیچارگی حد سے بڑھی ہوئی تھی، عوام الناس کی قوتیں مفلوج ہورہی تھیں اور خواص عیسائیت کے حملہ سے بچنے کیلئے اس کی طرف صلح کا ہاتھ بڑھا رہے تھے۔اسلام کے خادم اپالوجسٹس (APOLOGISTS) کی صفوں میں کھڑے ان اسلامی عقائد کیلئے جنہیں یورپ نا قابل قبول سمجھتا تھا معذرتیں پیش کر رہے تھے۔اُس وقت بانی سلسلہ احمدیہ نے ان طریقوں کے خلاف احتجاج کیا، اُس وقت انہوں نے اپنی تنہا آواز کو دلیرانہ بلند کیا کہ اسلام کو معذرتوں کی ضرورت نہیں۔اس کا ہر حکم حکمتوں سے پر اور اس کا ہر ارشا د صداقتوں سے معمور ہے۔اگر یورپ کو اس کی خوبی نظر نہیں آتی تو یا وہ اندھا ہے یا ہم شمع اُس کے قریب نہیں لے گئے پس اسلام کی حفاظت کا ذریعہ معذرتیں نہیں بلکہ اسلام کی حقیقی تعلیم کو یورپ تک پہنچانا ہے۔اُس وقت جب کہ یورپ کو اسلام کا خیال بھی نہیں آ سکتا تھا انہوں نے انگریزی میں اپنے مضامین ترجمہ کروا کے یورپ میں تقسیم کرائے اور جب خدا تعالیٰ نے آپ کو جماعت عطا فرمائی تو آپ نے انہیں ہدایت کی کہ جہاد اسلام کا ایک اہم جزو ہے اور جہاد کسی وقت چھوڑا انہیں جا سکتا۔جس طرح نماز، روزہ، حج، زکوۃ اسلام کے ایسے احکام ہیں کہ جن پر عمل