انوارالعلوم (جلد 13) — Page 356
356 انوار العلوم جلد ۱۳ بانی سلسلہ احمدیہ کی صداقت کے تین شاہد اگر ایک طرف میرے ہر ذرہ جسم پر اللہ تعالیٰ کی محبت قبضہ کئے ہوئے ہے تو دوسری طرف اسی کے حکم اور اسی کے ارشاد کے ماتحت آپ لوگوں کی خیر خواہی اور آپ کی بھلائی کی تڑپ بھی میرے جذبات میں ایک تلاطم پیدا کر رہی ہے۔میں سچ کہتا ہوں کہ میں آپ کو دھوکا دینے کیلئے یہ سطور نہیں لکھ رہا نہ آپ کو شرمندہ کرنے کے لئے لکھ رہا ہوں اور نہ آپ پر اپنی بڑائی جتانے کے لئے لکھ رہا ہوں بلکہ میرا پیدا کرنے والا اور میرا مالک جس کے سامنے میں نے مرکز پیش ہونا ہے اس امر کا شاہد ہے کہ میں آپ کی بہتری اور بہبودی کیلئے یہ سطور لکھ رہا ہوں اور سوائے آپ کو ہلاکت سے بچانے کے میری اور کوئی غرض نہیں اور اس لئے ہی آپ سے بھی خواہش کرتا ہوں کہ آپ ٹھنڈے دل سے اس امر پر غور کریں کہ کیا یہ تینوں باتیں جو مذہب و جماعت کی ترقی کیلئے ضروری ہوتی ہیں دوسرے مسلمانوں میں موجود ہیں؟ اگر نہیں اور ہر گز نہیں تو پھر آپ غور کریں کہ میں جو آپ کو کامیابی کی راہ کی طرف بلاتا ہوں آپ کا دوست ہوں یا وہ لوگ جو آپ کو اس سے روکتے ہیں وہ آپ کے دوست ہیں؟ میں آپ کو تفصیل میں ڈالنا پسند نہیں کرتا اور ایک مختصر اشتہار میں تفصیل بیان بھی نہیں کی جاسکتی مگر میں اعتقادات میں سے صرف ایک اعتقاد کو لے لیتا ہوں اور وہ وفات مسیح ناصری علیہ السلام کا عقیدہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب دعویٰ کیا، اُس وقت سب مسلمان خواہ وہ کسی فرقہ سے تعلق رکھتے ہوں یہ یقین رکھتے تھے کہ حضرت عیسی علیہ السلام زندہ آسمان پر بیٹھے ہوئے ہیں اور آئندہ کسی وقت دنیا میں تشریف لائیں گے اور کافروں کو قتل کر کے اسلامی حکومت قائم کریں گے۔ہر تعلیم یافتہ آدمی سمجھ سکتا ہے کہ یہ عقیدہ خواہ غلط ہو خواہ صحیح قوم کے خیالات اور اعمال پر کیسے گہرے اثر ڈال سکتا ہے اور مسلمانوں کی حالت کو دیکھ کر سمجھا جاسکتا ہے کہ ایسا ہی ہوا بھی۔جب مرزا صاحب علیہ السلام نے یہ اعلان کیا کہ یہ عقیدہ نہایت خطرناک ہے اُس وقت صرف سرسید اور ان کے ہمنوا وفات مسیح کے قائل تھے مگر اس وجہ سے نہیں کہ مسیح کا زندہ آسمان پر ہونا قرآن کریم کے خلاف ہے بلکہ اس لئے کہ یہ امر قانونِ قدرت کے خلاف ہے اور چونکہ سرسید قانونِ قدرت کے خلاف جسے وہ معلومہ سائنس کے مترادف خیال کرتے تھے کوئی فعل جائز نہ سمجھتے تھے اس لئے انہوں نے اس عقیدہ کا بھی انکار کیا لیکن یہ ظاہر ہے کہ مذہب سے لگاؤ رکھنے والوں کیلئے یہ دلیل تسلی کا موجب نہیں ہوسکتی، وہ خدا تعالیٰ کی قدرتوں کو صرف اس کے ارادہ کی حد بندیوں میں رکھنے کی اجازت دے سکتے ہیں اور انسان کے محدود تجربہ کو قانونِ قدرت کا